پاکستان میں غیر ملکی سموں کا استعمال، پی ٹی اے نے شہریوں کو خبردار کر دیا

اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے غیر ملکی سموں کے استعمال کے حوالے سے شہریوں کے لیے اہم عوامی آگاہی الرٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں غیر ملکی سموں کا استعمال غیر قانونی اور ممنوع ہے۔

پی ٹی اے کے مطابق غیر ملکی سموں کے ذریعے کی جانے والی کالز اور پیغامات صارفین کی حساس ذاتی اور مالی معلومات کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ اتھارٹی نے کہا ہے کہ ایسی سموں کا استعمال ڈیٹا ہیکنگ، مالیاتی فراڈ اور سائبر جرائم کے امکانات میں اضافہ کرتا ہے۔

سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں پی ٹی اے نے واضح کیا کہ غیر ملکی یا غیر تصدیق شدہ نیٹ ورکس کی سموں کے استعمال سے صارفین نہ صرف مالی نقصان کا شکار ہو سکتے ہیں بلکہ انہیں قانونی پیچیدگیوں کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

پی ٹی اے نے ’’ڈیجیٹل دنیا میں محفوظ قدم‘‘ کے سلوگن کے تحت شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر ملکی سموں کے ذریعے ہونے والے رابطوں سے گریز کریں کیونکہ یہ سائبر کرائم اور مالیاتی چوری کا سبب بن سکتے ہیں۔

اتھارٹی نے خبردار کیا کہ ممنوعہ سموں کے استعمال پر قانون نافذ کرنے والے ادارے قانونی کارروائی بھی کر سکتے ہیں۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے ذاتی اور مالیاتی ڈیٹا کے تحفظ کے لیے صرف پاکستان میں منظور شدہ اور تصدیق شدہ موبائل نیٹ ورکس کی سمز ہی استعمال کریں اور کسی بھی غیر تصدیق شدہ یا غیر ملکی سم کو اپنے فون میں فعال نہ کریں۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close