اسلام آباد : امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پاکستان میں صرف ظالمانہ نظام ہے اور پی ڈی ایم کی جماعتوں میں کوئی حقیقی اختلاف نہیں، صرف مفادات کے لیے “نورا کشتی” کی جاتی ہے۔
انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا کہ بجٹ میں عوام کو کوئی ریلیف نہیں ملتا، صرف نمبرز تبدیل کیے جاتے ہیں، جبکہ حکومت خود کہتی ہے کہ وہ آئی ایم ایف کے دباؤ میں ہے اور ملک اس کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ بجلی، پیٹرول اور گیس کی قیمتوں کا براہ راست اثر عوام پر پڑتا ہے اور آمدنی کا بڑا ذریعہ پیٹرولیم لیوی بن چکا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم لیوی فوری طور پر ختم کی جائے اور سرکاری سطح پر 1300 سی سی گاڑیوں تک محدود رہا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ایف بی آر میں سالانہ 1200 سے 1300 ارب روپے تک کرپشن ہوتی ہے جبکہ ملک 85 ہزار ارب روپے کے قرضے کے بوجھ تلے دب چکا ہے، جس میں بڑی رقم سود کی ادائیگی پر خرچ ہو رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہمیشہ ایک ہی طبقہ حکمران رہا ہے جو غریب عوام پر بوجھ ڈالتا ہے، جبکہ تعلیم کا بجٹ انتہائی کم رکھا گیا ہے اور صحت و تعلیم کے اداروں کو آؤٹ سورس کیا جا رہا ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ سرکاری اور نجی ملازمین دونوں شدید مشکلات کا شکار ہیں اور اس بجٹ میں عام آدمی کے لیے کچھ نہیں رکھا گیا۔
انہوں نے کشمیر کے حوالے سے کہا کہ پاکستان اور کشمیر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، چند لوگوں نے 25 کروڑ عوام کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ جماعت اسلامی آزاد کشمیر میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے اور وہ مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل کے حق میں ہیں، کیونکہ تشدد سے مسائل حل نہیں ہوتے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






