پٹرول 450 روپے لیٹر اور عوام کی جیبوں پر 4365 ارب کا ڈاکا! چونکا دینے والے انکشافات

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ 2026-27 پر جاری بحث کے دوران اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کی معاشی پالیسیوں اور بجٹ تجاویز کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ حکومتی اور اتحادی اراکین نے بجٹ کو موجودہ حالات میں متوازن اور بہترین قرار دیا۔

پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شرمیلا فاروقی نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں کریڈٹ کارڈ ہولڈرز اور فرسٹ کلاس سفر کرنے والوں کو ریلیف دیا گیا، جبکہ عام آدمی کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2050 تک ملک کی آبادی 390 ملین تک پہنچ جائے گی جو ایک سماجی و معاشی بحران بن سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس ادا کرنے والوں پر مزید بوجھ ڈالا جا رہا ہے جبکہ بجلی اور پٹرول کی قیمتیں پورے خطے میں سب سے زیادہ ہیں۔

رکن اسمبلی جمال خان کاکڑ نے بجٹ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں یہ بہترین بجٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں جو ایک بڑی کامیابی ہے، تاہم بلوچستان کے لیے مزید فنڈز مختص کیے جانے چاہئیں اور کوئٹہ کے پانی کے مسئلے کو فوری حل کیا جانا چاہیے۔

پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک نے کہا کہ بجلی، گیس اور پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ انہوں نے بانی پی ٹی آئی کی قید اور ملاقاتوں پر پابندیوں کا ذکر کرتے ہوئے ان کے لیے ذاتی معالج کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔

پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی حسین طارق نے کہا کہ ایف بی آر مسلسل اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے اور ٹیکس وصولی کا نظام صوبوں کے حوالے کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے نوجوانوں میں بڑھتی بے روزگاری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں عوامی مسائل کے حل کی واضح حکمت عملی نظر نہیں آتی۔

رکن اسمبلی مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ غربت میں اضافہ حکومتی معاشی پالیسیوں کی ناکامی کا ثبوت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ٹیکسوں کے ساتھ عوام کو بنیادی سہولیات بھی فراہم کی جائیں اور حکومت اپنے اخراجات کم کرے۔

سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا کہ موجودہ بجٹ دراصل آئی ایم ایف کا بجٹ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پنجاب میں گندم کے کاشتکاروں کو 2.2 کھرب روپے کا نقصان پہنچا ہے اور حکومت سرمایہ کاری لانے میں ناکام رہی ہے۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے اپوزیشن کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی دور میں اپوزیشن کے ساتھ انتقامی سلوک کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ پر بحث حقائق کی بنیاد پر ہونی چاہیے اور حکومت نے معاشی استحکام کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں۔

پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی عامر ڈوگر نے کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں۔ انہوں نے پٹرولیم لیوی اور مہنگائی پر تنقید کرتے ہوئے جنوبی پنجاب کے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے بھی تحفظات کا اظہار کیا۔

بحث کے اختتام پر جمال خان کاکڑ نے ایک بار پھر کہا کہ موجودہ معاشی حالات میں یہ ایک متوازن بجٹ ہے اور بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے مزید وسائل مختص کیے جانے چاہئیں۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close