بجلی اور گیس ہماری، لوڈشیڈنگ وفاق کی! وزیرِ اعلیٰ نے ناانصافیوں کا چٹھا کھول دیا

پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبے کے آئینی و مالی حقوق کے تحفظ کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت جاری ہے اور اس حوالے سے مشترکہ لائحہ عمل پر اتفاق ضروری ہے۔

انہوں نے مفتی محمود مرکز میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ ملاقات کا مقصد صوبے کے حقوق خصوصاً مالی معاملات پر تفصیلی مشاورت اور اتفاق رائے پیدا کرنا تھا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا کا سب سے بڑا مسئلہ این ایف سی ایوارڈ میں مناسب حصہ نہ ملنا ہے، اور ان کے مطابق گزشتہ آٹھ سال سے وفاق صوبے کے ساتھ امتیازی سلوک کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 25ویں آئینی ترمیم کے بعد ضم شدہ اضلاع کی آبادی اور وسائل کے مطابق حصہ نہیں دیا جا رہا۔

انہوں نے مزید کہا کہ 2018 میں فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے بعد صوبے کی آبادی میں اضافہ ہوا، لیکن وسائل کی تقسیم میں اس کا حق نہیں دیا گیا، جس پر فوری نظرثانی کی ضرورت ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب کی جانب سے گندم کی ترسیل میں رکاوٹیں آئین کے آرٹیکل 151 کی خلاف ورزی ہیں، جس پر مولانا فضل الرحمان کے ساتھ مکمل اتفاق ہے اور اس مسئلے پر مشترکہ موقف اختیار کیا جائے گا۔

انہوں نے گیس کی فراہمی کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا گیس پیدا کرنے والا صوبہ ہے، لیکن اسے ہی لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے، جو آئین کے آرٹیکل 158 کی خلاف ورزی ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع اور قبائلی علاقوں کے مسائل پر بھی تفصیلی بات ہوئی ہے اور ان کے حل کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رہیں گی۔

دینی مدارس کی رجسٹریشن سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اس حوالے سے قانون سازی کی حمایت کرے گی اور مثبت کردار ادا کرے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ بجٹ صوبے کے عوام کا حق ہے اور تمام فیصلوں سے قبل قائد عمران خان سے مشاورت کی جاتی ہے، جو ایک جمہوری روایت ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close