پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے سم ڈس اون پالیسی میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے نئی فعال ہونے والی سمز کے لیے ڈس اون کی مدت 60 دن سے بڑھا کر 365 دن کر دی ہے۔
یہ معاملہ اس وقت زیر بحث آیا جب سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ وائرل ہوئی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ نئی پالیسی کے تحت فعال سم کارڈ ایک سال تک نہ تو ڈس اون کیا جا سکے گا اور نہ ہی کسی دوسرے شخص کے نام منتقل کیا جا سکے گا۔ بعد ازاں پی ٹی اے نے اس دعوے کی تصدیق کر دی۔
پی ٹی اے کے ڈائریکٹر جنرل انٹرنیشنل ریلیشنز اینڈ گورنمنٹ افیئرز ڈویژن احمد شمیم کے مطابق نئی ایکٹیویٹ ہونے والی سم کو ایک سال مکمل ہونے سے پہلے ڈس اون نہیں کیا جا سکے گا۔
اتھارٹی نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جاری کردہ ہدایات میں بتایا کہ یہ پالیسی تبدیلی غیر قانونی سموں کے اجرا، غیر مجاز رجسٹریشن اور شناخت کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے کی گئی ہے، اور اس کا مقصد ٹیلی کام نظام کو مزید محفوظ اور شفاف بنانا ہے۔
پی ٹی اے نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ نئی سم حاصل کرتے وقت بائیومیٹرک تصدیق کے عمل میں مکمل احتیاط برتیں، کیونکہ ایک بار سم ایکٹیویٹ ہونے کے بعد اسے ایک سال تک ڈس اون نہیں کیا جا سکے گا۔
اتھارٹی نے صارفین کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ وہ وقتاً فوقتاً اپنے شناختی کارڈ پر رجسٹرڈ سمز کی تفصیلات چیک کرتے رہیں۔ اس مقصد کے لیے صارفین cnic.sims.pk کے ذریعے معلومات حاصل کر سکتے ہیں یا اپنا شناختی کارڈ نمبر بغیر ڈیش کے 668 پر ایس ایم ایس کر کے رجسٹرڈ سمز کی تعداد معلوم کر سکتے ہیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






