وفاقی حکومت نے نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی تیاریوں کو حتمی شکل دینا شروع کر دی ہے، جبکہ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے بجٹ کے اہم خدوخال بیان کیے ہیں۔
وفاقی وزیر کے مطابق آئندہ بجٹ میں ٹیکس کی شرح کم کرنے کی تجاویز زیر غور ہیں تاکہ عوام، خصوصاً تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف اس بات سے آگاہ ہیں کہ موجودہ ٹیکس نظام کے باعث تنخواہ دار طبقے پر بوجھ بڑھ گیا ہے، اسی لیے حکومت بجٹ میں ممکنہ حد تک ٹیکسوں میں کمی کے لیے عالمی مالیاتی ادارے سے مذاکرات کر رہی ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ زیادہ ٹیکس شرح کے باعث معاشی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں، اس لیے آئندہ بجٹ میں کاروباری ماحول بہتر بنانے اور سرمایہ کاری کے فروغ پر توجہ دی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ زرعی شعبے کی ترقی اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے، جبکہ معلوماتی ٹیکنالوجی کی برآمدات بڑھانے کے لیے سہولتیں دی جائیں گی۔
وفاقی وزیر کے مطابق مختلف وزارتوں نے ترقیاتی منصوبوں کے لیے تقریباً 3 ہزار ارب روپے کے فنڈز مانگے ہیں، تاہم آئندہ مالی سال کا ترقیاتی بجٹ تقریباً 1125 ارب روپے تک محدود رہنے کا امکان ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ محدود وسائل کے باعث ترقیاتی منصوبوں کی ترجیحات دوبارہ طے کرنا ہوں گی اور عالمی مالیاتی ادارہ صوبائی نوعیت کے منصوبوں کو صوبائی بجٹ سے فنڈ کرنے پر زور دے رہا ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں





