چینی ماہرین نے ڈائنوسار کے8 ٹن وزنی فوسلز کی صفائی مکمل کر لی

نان چھانگ(شِنہوا)چین کے مشرقی صوبے جیانگ شی میں ماہرین آثار قدیمہ نے گزشتہ مارچ میں ایک مقامی تعمیراتی مقام سے ملنے والے ڈائنوسار کے8 ٹن وزنی فوسلز کی صفائی مکمل کر لی ہے۔چائنہ یونیورسٹی آف جیو سائنسز(ووہان) کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور تحقیقی ٹیم کے سربراہ ہان فینگلو نے کہا کہ گانژو شہر میں دریافت ہونے والے فوسلز کی ابتدائی طور پر شناخت کی گئی تھی کہ وہ گروپ ہاڈروسوراڈائی یایا بطخ نما ڈائنوسار سے تعلق رکھتے ہیں۔دریافت ہونے والے فوسلز میں کھوپڑی کے حصے، دانت، ریڑھ کی ہڈی، اعضا کی ہڈیاں اور پسلیاں شامل ہیں۔

ان کے مقامات اور سائز کی بنیاد پر خیال کیا جاتا ہے کہ ہڈیوں کے فوسل کم از کم تین ڈائنوسار کے ہیں۔ ہاڈروسوراڈائی کے ایمبریو فوسل اس سے پہلے گانژو میں دریافت ہوئے تھے لیکن بالغ فوسل کے بارے میں کوئی تفصیلی تحقیق موجود نہیں تھی۔ ہان کا کہنا ہے کہ یہ دریافت بڑی تحقیقی اہمیت کی حامل ہے اور کریٹاسیئس دور کے آخر میں ہاڈروسوراڈائی کے ارتقا اور علاقائی تقسیم کو سمجھنے میں مدد کرے گی۔ ۔۔۔۔