صوبے میں پہلی سے پانچویں جماعت کے نصاب میں بڑی اصلاحات کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ نئے تعلیمی سال سے نیا اور نظرثانی شدہ نصاب نافذ کیا جائے گا۔
تعلیمی حکام کے مطابق نصاب کو مختصر اور آسان بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے تحت غیر ضروری اور زائد مواد کو کم کیا جائے گا تاکہ طلبہ پر تعلیمی بوجھ کم ہو سکے۔
ذرائع کے مطابق نصاب ایڈوائزری بورڈ میں کی گئی تبدیلیوں کی اصولی منظوری دے دی گئی ہے۔ نئے نظام کے تحت ایس ایل اوز میں بھی کمی کی جائے گی تاکہ سیکھنے کے عمل کو زیادہ مؤثر اور سادہ بنایا جا سکے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ نئے نصاب میں ڈیجیٹل تعلیم، اخلاقیات اور ماحولیات کو باقاعدہ طور پر شامل کرنے کی منظوری دی گئی ہے، تاکہ طلبہ کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق تعلیم فراہم کی جا سکے۔
اس حوالے سے پنجاب کریکیولم اینڈ ٹیکسٹ بور ڈکے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے کہا ہے کہ آئندہ تعلیمی سال کے لیے نئے نصاب پر کام شروع کر دیا گیا ہےضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جا رہی ہیں تاکہ بچوں کو بہتر، بامقصد اور عملی تعلیم فراہم کی جا سکے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






