حکومت کا صوبائی دائرہ اختیار والی 17 وزارتیں ختم کرنے سے انکار

وفاقی حکومت نے صوبائی دائرہ اختیار میں آنے والی 17 وزارتوں کو بند کرنے سے متعلق احکامات پر عملدرآمد سے انکار کردیا، جس کے باعث 18ویں آئینی ترمیم کے مکمل نفاذ کی خواہاں سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی کے ساتھ اختلافات پیدا ہوگئے ہیں۔

صوبائی دائرہ اختیار میں وفاقی مداخلت کا ایک اور معاملہ بھی سامنے آیا ہے، جہاں وفاقی حکومت نے گیس کے شعبے کی کمپنیوں کے ڈائریکٹرز کی تقرری کے لیے آئین کی ایسی شق استعمال کی جس کا تعلق دراصل لائبریریوں، عجائب گھروں اور اس نوعیت کے دیگر اداروں سے ہے۔

پیٹرولیم ڈویژن کے اسپیشل سیکرٹری نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) اسی آئینی شق کے دائرے میں آتی ہے، تاہم کمیٹی کا کہنا تھا کہ پی پی ایل کے معاملے کو آئین کے آرٹیکل 172(3) کے تحت نمٹایا جانا چاہیے تھا۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کی ذیلی کمیٹی نے کارروائی کے دوران دو مرتبہ عندیہ دیا کہ وہ وزیراعظم شہباز شریف سے کمیٹی کے سامنے پیش ہوکر یہ وضاحت طلب کر سکتی ہے کہ آئینی معاملے میں کمیٹی کی ہدایات پر عمل کیوں نہیں کیا گیا۔

کمیٹی نے سیکرٹری کابینہ کامران افضل کی مسلسل غیر حاضری پر ان کے سمن جاری کرنے کا انتباہ بھی دیا۔ اجلاس میں تعلیم، صحت، زراعت، ثقافت، ماحولیات اور صنعت سمیت ان 17 وزارتوں کو بند کرنے سے متعلق پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، جن کے شعبے 2010 میں صوبوں کو منتقل کیے جا چکے ہیں۔

کابینہ ڈویژن کے ایڈیشنل سیکرٹری حسن نقوی نے بتایا کہ بین الوزارتی مشاورت کے بعد حکومت کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی ذمہ داریوں اور تعاون کی تکمیل کے لیے ان وزارتوں کو برقرار رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کمیٹی سے وزارتیں بند کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کی۔

کمیٹی کے رکن سینیٹر ضمیر حسین گھمرو نے کہا کہ حکومت وزیراعظم کے پاس واپس جائے، کیونکہ 18ویں آئینی ترمیم پر عملدرآمد کمیٹی کے فیصلے پر نظرثانی نہیں کی جائے گی۔

چیئرمین کمیٹی نے وفاقی حکومت کے مؤقف کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین بین الاقوامی ذمہ داریوں کی تکمیل کے لیے وفاقی وزارتوں کو برقرار رکھنے کی بنیاد فراہم نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ آئین بین الاقوامی معاہدوں سے متعلق رہنمائی فراہم کرتا ہے جبکہ صوبائی حکومتیں بھی آئین کے آرٹیکل 173 کے تحت بین الاقوامی معاہدے کرسکتی ہیں۔

کمیٹی نے حکومت کو صحت، تعلیم، قومی غذائی تحفظ، آبی وسائل، موسمیاتی تبدیلی، ہاؤسنگ، خصوصی اقدامات، ثقافت و ورثہ، ریلوے، صنعت، شماریات، پیٹرولیم، بین الصوبائی رابطہ، منشیات اور منصوبہ بندی و ترقی سمیت متعلقہ وزارتیں ختم کرنے کے لیے مزید دو ہفتے کی مہلت دے دی۔

چیئرمین کمیٹی نے یہ بھی کہا کہ قابلِ تقسیم پول سے صوبوں کو 57.5 فیصد حصہ دینے کے آئینی تقاضے کے باوجود صوبائی کیش سرپلس اور وفاقی حکومت کو خالص منتقلی کے اثرات کو ایڈجسٹ کرنے کے بعد صوبوں کو منتقل ہونے والے خالص وسائل اس شرح سے کہیں کم ہیں۔

اجلاس کے دوران یہ معاملہ بھی سامنے آیا کہ وزارتِ پیٹرولیم آئینی مینڈیٹ کے بغیر پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ کے ڈائریکٹرز کا تقرر کر رہی ہے۔ آئین کے تحت جہاں تیل اور گیس کے وسائل دریافت ہوتے ہیں وہاں وفاق اور متعلقہ صوبائی حکومت کا مشترکہ کنٹرول ہونا چاہیے۔

پیٹرولیم ڈویژن کے اسپیشل سیکرٹری نے دعویٰ کیا کہ وفاقی حکومت کو قانون سازی کی فہرست کے پہلے حصے کے اندراج 15 کے تحت ڈائریکٹرز کی تقرری کا اختیار حاصل ہے۔ تاہم کمیٹی کی جانب سے متعلقہ اندراج کا جائزہ لینے پر معلوم ہوا کہ اس کا تعلق لائبریریوں اور عجائب گھروں کے امور سے ہے۔

کمیٹی نے وزارتِ پیٹرولیم کو ہدایت کی کہ پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ کے ڈائریکٹرز کے لیے متعلقہ صوبائی حکومتوں سے نامزدگیاں حاصل کی جائیں۔