چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا باغ آزاد کشمیر کی عوام سے پرجوش خطاب

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آج باغ، آزاد کشمیر میں ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر اپنی تاریخ کے ایک نہایت کٹھن اور غیر معمولی دور سے گزر رہا ہے،

جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ اس مشکل صورتحال کا سب سے زیادہ بوجھ عام عوام پر پڑا ہے، جو نہ کسی سیاسی جماعت سے وابستہ ہیں اور نہ ہی کسی احتجاجی تحریک کا حصہ ہیں۔ یہ وہ شہری ہیں جن کی واحد خواہش پرامن زندگی گزارنا ہے۔ وہ اپنے بچوں کو تعلیم کے لیے اسکول بھیجنا چاہتے ہیں، پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے لیے اپنے دفاتر اور اسپتالوں تک رسائی چاہتے ہیں، اور اپنے روزگار و کاروبار کو بحال رکھنا چاہتے ہیں،

مگر موجودہ حالات میں ان کی روزمرہ کی زندگی شدید متاثر ہو کر رہ گئی ہے۔ طویل بندشوں، رابطوں کے تعطل اور غیر یقینی کی فضا نے نہ صرف معاشی سرگرمیوں کو مفلوج کر دیا ہے بلکہ بنیادی سہولیات تک رسائی بھی مشکل بنا دی ہے، جس کے باعث عام خاندانوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ فوری طور پر ایسے اقدامات کرے جن سے عوام کو ریلیف ملے اور معمولاتِ زندگی بحال ہوں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری انٹرنیٹ کی بندش اور مسلسل احتجاج کے باوجود عوامی مسائل کا کوئی مؤثر اور دیرپا حل سامنے نہیں آ سکا۔ باغ میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مواصلات کے تعطل اور نقل و حرکت کی بندش نے تعلیمی اداروں، صحت کی سہولیات اور مقامی تجارت کو شدید متاثر کیا ہے جس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا اصولی موقف ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ سیاسی اور سماجی بحرانوں کا حل تصادم کے بجائے بات چیت، مکالمے اور مفاہمت کی فضا میں تلاش کیا جائے۔ اسی تناظر میں پارٹی نے آزاد کشمیر اسمبلی میں ریکنسیلی ایشن کمیشن کے فوری قیام پر زور دیا ہے تاکہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر جامع مشاورت کے ذریعے مسائل کے پائیدار حل کو یقینی بنایا جا سکے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ آزاد کشمیر اسمبلی میں اب یہ معاملہ صرف پاکستان پیپلز پارٹی کے موقف تک محدود نہیں رہا بلکہ ایوان میں باقاعدہ ایک قرارداد پیش کر کے “سچ کمیشن” کے قیام کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کمیشن کا بنیادی مقصد حالیہ واقعات کے حقائق کو غیر جانبدارانہ اور شفاف طریقے سے سامنے لانا ہے تاکہ عوام کو سچائی کا معلوم ہو اور ریاست و عوام کے درمیان اعتماد بحال کیا جا سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ جب تک کمیشن اپنی تحقیقات مکمل نہ کرے، تمام احتجاجی سرگرمیاں معطل کی جائیں اور تعلیمی، تجارتی و انتظامی امور کو فوری طور پر بحال کیا جائے تاکہ عام شہریوں کی روزمرہ زندگی معمول پر آ سکے۔ چیئرمین نے واضح کیا کہ کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں اگر یہ ثابت ہو کہ کسی فرد یا گروہ نے قانون کو ہاتھ میں لیا ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے، جبکہ اگر کوئی شخص بے گناہ قرار پائے تو اسے باعزت بری کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جا سکے۔  چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے آزاد کشمیر میں انتخابات کو چھ مراحل میں منعقد کروانے کے فیصلے پر گہرے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے انتخابی شفافیت پر سوالیہ نشان قرار دیا۔ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر کشمیر ایک ہے تو الیکشن بھی ایک دن میں ہونا چاہیے تھا۔ چھ مرحلوں میں الیکشن کا مطلب صرف یہ ہے کہ وہ صاف و شفاف الیکشن نہیں کروانا چاہتے۔ ن لیگ کا بیان کہ 10 سیٹیں ان کی جیب میں ہیں صاف ظاہر کرتا ہے کہ وہ شروع سے ہی صاف شفاف الیکشن نہیں چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ کشمیر کے انتخابات میں نے لیگ نے میرپور اور مظفرآباد میں عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ مارنا ہے۔  انہوں نے کہا کہ مرحلہ وار انتخابی عمل نہ صرف انتظامی پیچیدگیاں پیدا کرتا ہے بلکہ اس سے نتائج کو متاثر کرنے اور عوامی مینڈیٹ میں مداخلت کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ ایک ہی دن میں تمام حلقوں میں رائے دہی کا عمل یقینی بنانے سے انتخابی نتائج کی غیر جانبداری اور عمل کی ساکھ دونوں محفوظ رہتی ہیں۔ چیئرمین پی پی پی نے زور دیا کہ عوام کا حق ہے کہ انہیں آزادانہ اور منصفانہ ماحول میں ووٹ ڈالنے کا موقع ملے، اور کسی بھی ایسے طریقہ کار سے اجتناب کیا جائے جو انتخابی عمل کی شفافیت کو مشکوک بنائے یا اداروں پر عوام کے اعتماد کو مجروح کرے۔ بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت اور مسلم لیگ ن کی کارکردگی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کی صاف نیت کے باوجود حکومتی ایوانوں میں بیٹھے بعض عناصر ہر مصالحتی اور اصلاحی اقدام کو ناکام بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں وفاقی حکومت کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ن لیگ آزاد کشمیر میں ہماری عوام کے مینڈیٹ پر شب خون مارا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی پی پی کے کارکن کو شہید کیا گیا اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی صلاح الدین جنیجو کو گولی ماری کر زخمی کیا گیا انہوں نے کہا کہ ایک منتخب نمائندے پر حملہ، کارکنوں کا قتل اور سیاسی کارکنوں کو نشانہ بنانا صرف افراد کے خلاف جرم نہیں بلکہ جمہوری عمل اور قانون کی حکمرانی پر براہِ راست وار ہے۔ جب ریاستی سطح پر ایسے واقعات کے فوری محرکات سامنے نہ لائے جائیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون نافذ نہ ہو تو اس سے نہ صرف متاثرہ خاندانوں میں بے یقینی بڑھتی ہے بلکہ عام شہری کا ریاست کے نظام انصاف پر اعتماد بھی آٹھ جاتا ہے۔  انہوں نے مطالبہ کیا کہ شہداء کے لواحقین کو فوری انصاف دیا جائے، تمام واقعات کی غیر جانبدار تحقیقات کروائی جائیں اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کو اپنے اردگرد ایسی قیادت کو کے کر چلنا ہوگا جو تصادم کے بجائے مکالمے پر یقین رکھتی ہو، ورنہ عوامی مسائل حل ہونے کے بجائے مزید گھمبیر ہوتے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وفاق اور پنجاب کی مرکزی قیادت کے سیاسی اختلافات اور اقتدار کی کشمکش کا بوجھ آزاد کشمیر کے عوام پر ڈالا جا رہا ہے۔ جب وفاقی سطح پر فیصلے مفاہمت کے بجائے مفادات کی بنیاد پر ہوتے ہیں تو اس کے اثرات براہِ راست آزاد کشمیر کی سیاست، انتظامی امور اور عوامی فلاح پر مرتب ہوتے ہیں۔  چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ ایک قومی اور اصولی معاملہ ہے، اسے کسی سیاسی جماعت کی انا یا اقتدار کے نذر نہیں کیا جانا چاہیے۔ اگر وفاق اور لاہور اپنی ترجیحات طے کرتے وقت کشمیری عوام کے حقوق، ان کے مینڈیٹ اور ان کے مسائل کو سامنے رکھیں تو نہ صرف کشمیر میں استحکام آئے گا بلکہ وفاق اور ریاست کے درمیان اعتماد کا رشتہ بھی مضبوط ہوگا۔ انہوں نے آزاد کشمیر کے لیے پارٹی کا جامع منشور پیش کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کا مقصد اس خطے کو “جنتِ بینظیر” میں تبدیل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا صرف پہاڑ خوبصورت ہونے سے خطہ ترقی نہیں کرتا۔ جب تک عوام کے پاس اختیار، حقِ ملکیت، حقِ روزگار اور حقِ حکمرانی نہیں ہوگا یہ وادی جنتِ بینظیر نہیں بن سکتی۔ اگر اسے جنتِ بینظیر بنانا ہے تو یہاں کے لوگوں کو سکون، امن اور انصاف فراہم کرنا ہوگا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اس نظریے کی بنیاد چار بنیادی ستونوں پر رکھی گئی ہے۔ پہلا ستون مقامی حکومتوں کو حقیقی آئینی اور مالی خودمختاری دینا ہے تاکہ ترقیاتی فیصلے عوام کی دہلیز پر ہوں اور مرکزیت کا خاتمہ ہو۔ دوسرا ستون شہریوں کو زمین، جائیداد اور کاروبار پر محفوظ قانونی حق فراہم کرنا ہے تاکہ سرمایہ کاری کا اعتماد بڑھے اور مقامی معیشت مستحکم ہو۔ تیسرا ستون نوجوانوں کے لیے سیاحت، ہائیڈرو پاور، آئی ٹی پارک اور زراعت کے شعبوں میں پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے تاکہ ہجرت کے رجحان میں کمی آئے اور مقامی ہنر کو بروئے کار لایا جائے۔ چوتھا اور سب سے اہم ستون حقِ حکمرانی ہے جس کے تحت انتخابی عمل کو مکمل شفاف بنایا جائے گا اور منتخب نمائندوں کو وہ اختیارات دیے جائیں گے جو ایک فعال جمہوری نظام کا تقاضا ہیں۔  انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کی حقیقی ترقی کا پیمانہ صرف قدرتی وسائل نہیں بلکہ انسانی حقوق کی فراہمی ہے۔ جب ریاست اپنے شہریوں کو عزت، روزگار اور فیصلہ سازی میں شراکت دے گی تو یہ خطہ نہ صرف قدرتی حسن بلکہ معاشی خودکفالت، سیاسی استحکام اور سماجی انصاف کی علامت بھی بنے گا۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کشمیر کے عوام سب سے زیادہ محب وطن اور غیرت مند ہیں۔ ان سے قربانی اور وفاداری تو کئی عرصے سے مانگی جارہی ہے لیکن حقوق دینے کے لیے کوئی تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے الفاظ “طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں” یہ صرف لفظوں تک محدود نہیں یہ ایک نظریہ ایک سوچ ہے۔ جب تک سیاستدان عوام کو نہیں مانیں گے، نظام نہیں چل سکتا۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام نے تاریخ کے ہر مرحلے پر سرحدوں کی حفاظت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ جنگ و امن، قدرتی آفات اور سیاسی بحرانوں میں بھی انہوں نے ریاست کے ساتھ غیر متزلزل وفاداری کا ثبوت دیا۔ تاہم یہ بات باعث تشویش ہے کہ قربانیوں کے باوجود انہیں آج بھی بنیادی سیاسی، معاشی اور انتظامی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ایک جمہوری ریاست کی بنیاد عوامی خودمختاری پر ہے۔ جب عوام سے وفاداری کا تقاضا کیا جائے مگر انہیں حقِ حکمرانی، حقِ ملکیت اور حقِ روزگار نہ دیا جائے تو ایسا رویہ نہ صرف آئینی اصولوں خلاف ہے بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کے رشتے کو بھی مجروح کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی نظام اس وقت تک پائیدار نہیں ہو سکتا جب تک وہ عوام کی رضامندی، شمولیت اور احترام پر مبنی نہ ہو۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اگر ہم واقعی آزاد کشمیر کو “جنتِ بینظیر” بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں پہلے عوام کو اصل اختیار دینا ہوگا۔ اس کا مطلب ہے مقامی سطح پر فیصلہ سازی کا اختیار، زمین اور جائیداد پر محفوظ قانونی حق، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع، اور ایک شفاف انتخابی نظام جس میں عوامی مینڈیٹ کا تقدس برقرار رہے۔  انہوں نے کہا کہ کشمیر کے عوام کی محب وطنی کو صرف نعروں تک محدود نہیں رکھا جا سکتا۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس محبت اور وفاداری کا جواب حقوق کی فراہمی، عزت اور شراکت سے دے۔ جب تک عوام کو مرکزِ اقتدار تسلیم نہیں کیا جائے گا، کوئی بھی ترقیاتی ایجنڈا اپنی تکمیل کو نہیں پہنچ سکتا۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے 10 اگست کے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے حوالے سے کہا کہ یہ انتخابات صرف حکومت بنانے کا موقع نہیں بلکہ کشمیر کے مستقبل کو بچانے کا موقع ہے اور کشمیر کا فیصلہ صرف کشمیر کی عوام کر سکتی ہے کوئی اسلام آباد یا سندھ سے کشمیر کا فیصلہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کشمیر کی عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا آپ کے ووٹ میں طاقت ہے اور وعدہ کیا کہ عوام کا مینڈیٹ واپس دلوا کر رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 10 اگست کو تیر پر مہر لگا کر پیغام دیں کہ کشمیر کی عوام دھاندلی کو قبول نہیں کرتی۔ گزشتہ الیکشن میں آزاد کشمیر کے عوامی مینڈیٹ کا احترام نہیں کیا گیا اور سیاسی مداخلت کے ذریعے عوام کی نمائندگی کو کمزور کیا گیا اور اس لیے 10 اگست کا الیکشن ایک فیصلہ کن موڑ ہے جہاں عوام اپنے حقِ حکمرانی کو دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی کا منشور اسی مقصد پر مبنی ہے کہ آزاد کشمیر کو آئینی، مالی اور انتظامی خودمختاری دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ “تیر پر مہر” کا مطلب صرف ایک جماعت کو ووٹ دینا نہیں بلکہ حقِ ملکیت، حقِ روزگار اور حقِ حکمرانی کے لیے کھڑا ہونا ہے۔چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ اگر عوام بڑی تعداد میں نکل کر ووٹ دیں گے تو نہ صرف چوری شدہ نشستوں کا ازالہ ممکن ہوگا بلکہ کشمیر میں ایک ایسا نظام بھی تشکیل پائے گا جو عوام کی عزت، روزگار اور سیاسی اختیار کو یقینی بنائے۔ انہوں نے 10 اگست کے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے سلسلے میں کشمیر کی عوام سے تین اہم حلقوں میں پیپلز پارٹی کے امیدواروں کی حمایت کا اعلان کیا۔ انہوں نے حلقہ ایل-14 پونچھ سے راجہ مبشر، حلقہ ایل-15 پونچھ سے سردار ضیاء قمر اور حلقہ ایل-24 حویلی سے فیصل ممتاز راٹھور کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ امیدوار عوام کی امنگوں کے ترجمان ہیں اور پیپلز پارٹی کے “جنتِ بینظیر” کے نظریہ کو عملی جامہ پہنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان حلقوں میں مقابلہ صرف افراد کا نہیں بلکہ عوامی حقوق اور ریاستی خودمختاری کا ہے۔ ان کے مطابق راجہ مبشر، سردار ضیاء قمر اور فیصل ممتاز راٹھور وہ قیادت ہیں جو مقامی مسائل کو سمجھتے ہیں اور اسمبلی میں عوام کی آواز بنیں گے۔  انہوں نے کارکنوں اور عوام سے کہا کہ آپ کے ووٹ میں طاقت ہے۔ تیر پر مہر لگا کر ان امیدواروں کو کامیاب بنائیں تاکہ ہم مل کر آزاد کشمیر میں حقِ ملکیت، حقِ روزگار اور حقِ حاکمیت کو یقینی بنا سکیں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا مقصد ان نمائندوں کے ذریعے آزاد کشمیر میں ایک ایسا سیاسی اور معاشی نظام قائم کرنا ہے جو عوام کی عزت، شراکت اور خودمختاری پر مبنی ہو ۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی قومی مفاد کی وجہ سے حکومت میں ہے ورنہ اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر کشمیر کے ساتھ ناانصافی ہوئی وہ خود ان کے ساتھ احتجاج کا حصہ بنین گے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اس خونی الیکشن، گولی والا الیکشن کو منظور نہیں کرتی اور کشمیر کے حق کے لیے کشمیر کی عوام کے ساتھ ہے۔