پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے 2026-27 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا شیڈول جاری کر دیا ہے، جس کا آغاز 11 اگست کو ملتان سے ہوگا۔ نئے سیزن میں 2027 کے ورلڈ کپ کی تیاریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ون ڈے فارمیٹ کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔
سیزن کے آغاز میں نیشنل چیمپئنز کپ لسٹ اے اور ڈیپارٹمنٹل ون ڈے کپ کا انعقاد کیا جائے گا، تاکہ قومی کھلاڑیوں کو ون ڈے کرکٹ میں زیادہ مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ ریڈ بال کرکٹ میں قائد اعظم ٹرافی گولڈ اور سلور جبکہ پریذیڈنٹ ٹرافی گریڈ ون اور گریڈ ٹو گولڈ و سلور ٹورنامنٹس شامل ہوں گے۔
پریذیڈنٹ ٹرافی کے تینوں ایونٹس 12 ستمبر سے شروع ہوں گے، جبکہ قائد اعظم ٹرافی گولڈ اور سلور یکم نومبر سے کھیلی جائے گی۔ قائد اعظم ٹرافی گولڈ میں 8 جبکہ سلور میں 12 ٹیمیں حصہ لیں گی۔ دونوں ڈویژنز فرسٹ کلاس کرکٹ پر مشتمل ہوں گی، جہاں ایک ٹیم کی ترقی اور ایک ٹیم کی تنزلی کا نظام برقرار رکھا جائے گا۔
پی سی بی نے ریجنل کرکٹ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ٹیموں کی تعداد میں بھی اضافہ کیا ہے۔ 16 ریجنز کی 18 ٹیموں کو بڑھا کر 20 کر دیا گیا ہے، جبکہ سیالکوٹ اور پشاور ریجنز کو بھی لاہور اور کراچی کی طرح دو، دو ریجنل ٹیموں کی نمائندگی دی جائے گی۔
نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ کے گولڈ اور سلور دونوں ٹورنامنٹس 5 فروری سے 6 مارچ تک لاہور میں منعقد ہوں گے۔ اس کے علاوہ انڈر 19 کھلاڑیوں کے لیے تین روزہ میچز کا ٹورنامنٹ بھی شامل کیا گیا ہے۔ نیشنل انڈر 19 کپ اور نیشنل انڈر 19 چیمپئن شپ 22 اکتوبر سے 5 دسمبر تک جاری رہیں گی، جبکہ انڈر 15 ون ڈے کپ اکتوبر اور نومبر، اور انڈر 17 ٹو ڈے ٹورنامنٹ نومبر اور دسمبر میں کھیلا جائے گا۔
ڈسٹرکٹ چیلنج لیگز، انٹر ڈسٹرکٹ انڈر 19 اور انٹر ڈسٹرکٹ سینئر ٹورنامنٹس بھی معمول کے مطابق جاری رہیں گے۔
پی سی بی کے سینئر جنرل منیجر ڈومیسٹک کرکٹ اسامہ شارون نے کہا کہ 2026-27 کا ڈومیسٹک سیزن کھلاڑیوں اور شائقین کے لیے اہم ثابت ہوگا۔ ان کے مطابق ورلڈ کپ کی تیاریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سیزن کا آغاز ون ڈے ٹورنامنٹس سے کیا جا رہا ہے، جبکہ ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کھلاڑیوں کی ترقی اور انہیں زیادہ مواقع فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ انڈر 19 کھلاڑیوں کو ریڈ بال کرکٹ کے مواقع فراہم کرنے سے نوجوان ٹیلنٹ کو نکھارنے میں مدد ملے گی، جبکہ ڈومیسٹک کرکٹ کے لیے بہتر مالی معاونت اور ریجنل کرکٹ کو مضبوط بنانے کے اقدامات سے مجموعی نظام مزید بہتر ہوگا۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






