//

ٹرمپ کا زمینی فوج بھیجنے پر غور، کیا امریکا ایران پر قبضے کی تیاری کر رہا ہے؟ اہم خبر آگئی

ٹرمپ کا ایران کے خلاف ممکنہ فوجی اقدامات پر غور، امریکی اخبار کا دعویٰ

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں میں توسیع کے مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں، جن میں زمینی فوج کے استعمال کا امکان بھی شامل ہے۔

رپورٹ کے مطابق، کئی روز تک اعلیٰ حکام کی بریفنگز کے بعد ٹرمپ ایران کے خلاف مزید اقدامات کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ زیرِ غور آپشنز میں ایران پر فضائی حملوں میں اضافہ، آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی جزائر پر قبضے کے لیے زمینی افواج بھیجنا اور ایک حساس تنصیب کو نشانہ بنانا شامل ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی صدر نے منگل کی شام وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ایک اجلاس کی صدارت کی، جس میں حکومتی اور فوجی حکام نے ایران کے مختلف علاقوں میں ممکنہ فوجی کارروائیوں پر تبادلہ خیال کیا۔

اجلاس میں آبنائے ہرمز کے قریب جزیرہ خرگ سمیت دیگر مقامات پر امریکی فوج کے استعمال، پکیکس ماؤنٹین میں مبینہ زیرِ زمین تنصیب پر حملے اور ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔

اس کے علاوہ ایران میں مزید اہداف، جن میں توانائی کے مراکز بھی شامل ہیں، پر فضائی حملوں کے دائرہ کار کو بڑھانے کے امکان پر بھی غور کیا گیا۔

اس سے قبل صدر ٹرمپ نے ایران سے متعلق ممکنہ کارروائیوں کی ڈیڈ لائن کے حوالے سے سوال پر کہا تھا کہ وہ ڈیڈ لائن مقرر کرنا پسند نہیں کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی قیادت مذاکرات کے ذریعے معاملہ حل کرنا چاہتی ہے، تاہم اس سے پہلے ایران کو اپنا طرزِ عمل بہتر کرنا ہوگا، جس کے بعد ہی کسی ممکنہ معاہدے پر غور کیا جائے گا۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close