اسلام آباد: وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیار پیٹرول مہنگا ہوا، جس کے اثرات پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر پڑے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پیٹرول کی قیمت سعودی آرامکو کے خام تیل کے نرخوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ عالمی منڈی میں تیار پیٹرول کی قیمت کے مطابق مقرر کی جاتی ہے، جہاں روزانہ کی بنیاد پر نرخوں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق رواں ہفتے عالمی منڈی میں تیار پیٹرول کی قیمت 88 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ جنگ سے قبل 27 فروری 2026 کو یہی قیمت 76 ڈالر فی بیرل تھی۔ ان کے بقول جنگ سے پہلے کے مقابلے میں عالمی منڈی میں تیار پیٹرول اب بھی تقریباً 12 ڈالر فی بیرل مہنگا ہے۔
علی پرویز ملک نے بتایا کہ بیرون ملک سے پیٹرول درآمد کرنے پر کرایہ، انشورنس اور دیگر اضافی اخراجات بھی ادا کرنا پڑتے ہیں، جبکہ پاکستان اپنی ضرورت کا تقریباً 70 فیصد پیٹرول درآمد کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پیٹرول کی قیمت کو سمجھنے کے لیے خام تیل کے بجائے تیار پیٹرول کی عالمی قیمت کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
وفاقی وزیر نے مزید بتایا کہ اس وقت پیٹرول پر پیٹرولیم لیوی اور کاربن سپورٹ لیوی ملا کر مجموعی طور پر 85 روپے فی لیٹر وصول کیے جا رہے ہیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






