ایران نے امریکی حملوں کے خلاف اقوام متحدہ کو احتجاجی خطوط ارسال کر دیے، خودمختاری کی خلاف ورزی کا الزام
ایران نے امریکا کی جانب سے کیے گئے حملوں کے خلاف اقوام متحدہ سے باضابطہ احتجاج کرتے ہوئے سلامتی کونسل کے صدر اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو الگ الگ خطوط ارسال کر دیے ہیں۔ ایرانی حکام نے اپنے خطوط میں امریکی کارروائیوں کو ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف قرار دیتے ہوئے فوری توجہ کا مطالبہ کیا ہے۔
ایرانی سفیر برائے اقوام متحدہ امیر سعید ایروانی کے مطابق امریکا نے ایک بار پھر ایران کی خودمختاری، قومی سلامتی اور علاقائی سالمیت کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی اقدامات عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے اصولوں کے منافی ہیں، جن پر عالمی برادری کو مؤثر ردعمل دینا چاہیے۔
ایرانی احتجاجی خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ امریکا کی جانب سے کیے گئے حملے اقوام متحدہ کے منشور اور واشنگٹن کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ امریکی فوجی کارروائیاں اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 2 کی شق 4 کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہیں، جس میں ریاستوں کی خودمختاری اور طاقت کے استعمال سے متعلق اصول بیان کیے گئے ہیں۔
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی حملے نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ 16 جون کو طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی پہلی شق کی بنیادی خلاف ورزی بھی تصور کیے جاتے ہیں۔ ایران نے مؤقف اپنایا ہے کہ ایسے اقدامات خطے میں امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں اور ان سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
ایران نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے امریکی اقدامات کا جائزہ لے اور عالمی امن و سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے۔
واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ دنوں میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے تمام سفارتی اور قانونی راستے اختیار کرے گا۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






