معروف بھارتی اداکار راجیش شرما زہریلے کیڑے کے مبینہ کاٹنے کے بعد اسپتال منتقل، حالت تشویشناک
معروف بھارتی اداکار راجیش شرما کو مبینہ طور پر زہریلے کیڑے کے کاٹنے کے بعد کولکتہ کے ایک نجی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، جہاں ان کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ اہلِ خانہ کے مطابق اداکار شدید بخار، سانس لینے میں دشواری اور ٹانگ میں پھیلنے والے انفیکشن کے باعث زیرِ علاج ہیں۔
راجیش شرما کے اہلِ خانہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ واقعہ حیدرآباد کے راموجی فلم سٹی میں پیش آیا، جہاں اداکار معروف اداکار پربھاس کی فلم کی شوٹنگ مکمل کرنے کے بعد ایک سرسبز علاقے میں فلمی عملے کے ساتھ گفتگو کر رہے تھے۔ اسی دوران انہیں محسوس ہوا کہ کسی کیڑے نے انہیں کاٹ لیا ہے۔
اہلِ خانہ کے مطابق ابتدائی طور پر کیڑے کے کاٹنے سے ہونے والی تکلیف معمولی محسوس ہوئی، جس کے باعث راجیش شرما نے فوری طور پر طبی امداد حاصل نہیں کی۔ تاہم تقریباً چھ گھنٹے بعد ان کی دائیں ٹانگ میں شدید درد شروع ہوگیا اور ان کی طبیعت تیزی سے خراب ہونے لگی۔
طبیعت ناساز ہونے کے باوجود اداکار کولکتہ جانے والی پرواز میں سوار ہوئے، لیکن سفر کے دوران انہیں تیز بخار ہوگیا۔ کولکتہ پہنچنے کے بعد اگلے روز انہیں ڈھاکوریا کے منی پال اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ تاحال زیرِ علاج ہیں۔
اہلِ خانہ کے مطابق راجیش شرما اس وقت شدید بخار، سانس لینے میں دشواری اور دائیں ٹانگ میں پھیلنے والے خطرناک انفیکشن کا سامنا کر رہے ہیں۔ انفیکشن ان کے پاؤں کی انگلیوں سے لے کر گھٹنے تک پھیل چکا ہے، جبکہ متاثرہ حصے پر بڑے بڑے چھالے بھی بن گئے ہیں۔
اداکار کا علاج کرنے والے ایک سینئر ڈاکٹر نے بھارتی میڈیا کو بتایا کہ اس وقت راجیش شرما کی حالت کے بارے میں حتمی رائے دینا قبل از وقت ہوگا۔ ڈاکٹر کے مطابق اداکار ابھی خطرے سے باہر نہیں ہیں اور انہیں مسلسل طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔
ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ راجیش شرما کی حالت پر چوبیس گھنٹے نظر رکھی جا رہی ہے، کیونکہ خون کا لوتھڑا بننے کا خدشہ موجود ہے۔ اگر یہ لوتھڑا پھیپھڑوں تک پہنچ جائے تو صورتحال جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے، اس لیے ان کا علاج انتہائی احتیاط کے ساتھ جاری ہے۔
راجیش شرما بنگالی اور ہندی فلم انڈسٹری کے معروف اداکار ہیں، جنہوں نے متعدد کامیاب فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں۔ ان کی مشہور فلموں میں “کھوسلا کا گھوسلا” (2006)، “عشقیہ” (2010)، “نو ون کلڈ جیسیکا” (2011)، “بجرنگی بھائی جان” (2015) اور “ایم ایس دھونی: دی اَن ٹولڈ اسٹوری” (2016) شامل ہیں۔
دوسری جانب آل انڈیا سینی ورکرز ایسوسی ایشن نے بھی اس واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ سطح کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ فلمی سیٹوں پر فنکاروں اور دیگر عملے کی حفاظت کے لیے مؤثر انتظامات کو یقینی بنایا جانا چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






