ایران کے مختلف علاقوں میں امریکی فوج کے فضائی حملے

صدر ٹرمپ کی ہدایت پر ایران کے خلاف امریکی فضائی کارروائیاں، آبنائے ہرمز کے اطراف اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

امریکی فوج نے صدر ٹرمپ کی ہدایت پر ایران کے خلاف نئی فضائی کارروائیوں کا آغاز کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق کارروائیوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانا اور ان اہداف کو نشانہ بنانا ہے جنہیں امریکی حکام بحری نقل و حمل کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔

سینٹ کام کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کے خلاف مزید حملے شروع کر دیے گئے ہیں اور آبنائے ہرمز میں ایسے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو امریکی مؤقف کے مطابق بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ایران نے بحری جہازوں پر بلاجواز حملے کیے، جن کے جواب میں یہ کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

ایک امریکی عہدیدار نے ایگزیوس سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آبنائے ہرمز کے اطراف ایرانی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق کارروائی میں پاسدارانِ انقلاب کے ساحلی ریڈار، بحری جہاز شکن میزائلوں کے ٹھکانے اور فضائی دفاعی نظام بھی اہداف میں شامل ہیں۔ امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ آج کی کارروائیوں کا دائرہ کار گزشتہ دنوں کیے گئے حملوں کے مقابلے میں زیادہ وسیع ہے۔

دوسری جانب ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ جنوبی ایران کے مختلف علاقوں میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق صوبہ ہرمزگان، بندر عباس اور جزیرہ سیرک میں دھماکے ہوئے، جبکہ ایرانی فضائی دفاعی نظام نے بندر عباس کے قریب حملوں کو روکنے کا دعویٰ کیا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق دھماکوں کے بعد چاہ بہار شہر میں بجلی کی فراہمی بھی معطل ہو گئی، جبکہ جنوبی ایران کے صوبہ بوشہر میں بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

تاحال ان حملوں سے ہونے والے ممکنہ جانی یا مالی نقصان کے بارے میں دونوں جانب سے کوئی حتمی اور آزادانہ طور پر تصدیق شدہ تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں، جبکہ خطے کی صورتحال بدستور کشیدہ بتائی جا رہی ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close