انقرہ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نیٹو اجلاس سے قبل ترک صدر رجب طیب اردوان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو میں کیے گئے کئی دعوؤں کو ماہرین اور دستیاب شواہد نے گمراہ کن یا غلط قرار دیا ہے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ گرین لینڈ چینی اور روسی بحری جہازوں سے گھرا ہوا ہے، تاہم ڈنمارک، گرین لینڈ، نارڈک ممالک اور آزاد ماہرین نے اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی تائید میں کوئی معتبر ثبوت موجود نہیں۔
انہوں نے یہ دعویٰ بھی دہرایا کہ انہوں نے آٹھ جنگیں ختم کرائیں، مگر ماہرین کے مطابق جن تنازعات کا ذکر کیا گیا، ان میں کئی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے جبکہ بعض باقاعدہ جنگیں بھی نہیں تھیں۔
ٹرمپ نے سابق صدر جو بائیڈن پر یوکرین کو “سینکڑوں ارب ڈالر” کا فوجی سازوسامان دینے کا الزام بھی عائد کیا، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق امریکی فوجی امداد اس دعوے سے کہیں کم رہی۔
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ ان کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد امریکا میں 19.2 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی، لیکن سرکاری ریکارڈ کے مطابق اس سے کہیں کم سرمایہ کاری کے اعلانات سامنے آئے ہیں، جن میں ممکنہ منصوبے بھی شامل ہیں۔
ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر 2020 کے امریکی صدارتی انتخاب کو دھاندلی زدہ قرار دیا، تاہم امریکی عدالتیں، انتخابی حکام اور متعدد تحقیقات اس دعوے کی تردید کر چکی ہیں اور انتخابی نتائج کو قانونی طور پر درست قرار دیا جا چکا ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






