766 غیر رجسٹرڈ نجی تعلیمی اداروں کو بند کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ، جن میں بڑی تعداد ٹیوشن سینٹرز اور پرائمری اسکولوں کی ہے۔
تفصیلات کے مطابق لاہور کے علاقے کاہنہ میں اسکول کی چھت گرنے کے افسوسناک واقعے کے بعد محکمہ تعلیم نے بچوں کی زندگیوں کے تحفظ کے لیے بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے ضلع بھر میں تمام غیر رجسٹرڈ نجی تعلیمی اداروں کو بند کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
ذرائع نے بتایا کہ اس وقت ڈسٹرکٹ لاہور میں 766 غیر رجسٹرڈ تعلیمی ادارے غیر قانونی طور پر کام کر رہے ہیں اور ان غیر رجسٹرڈ اداروں میں ایک بڑی تعداد ٹیوشن سینٹرز اور پرائمری اسکولوں کی ہے، جو بغیر کسی قانونی رجسٹریشن اور حفاظتی انتظامات کے چلائے جا رہے ہیں۔
محکمہ تعلیم کی جانب سے نجی تعلیمی اداروں کے اسٹرکچر اور سیفٹی کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر اور مختلف زونل آفیسرز اس کمیٹی کے اہم ارکان ہوں گے جبکہ مانیٹرنگ کو مزید مؤثر بنانے کے لیے پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن یا متعلقہ رجسٹریشن اتھارٹی (پیرا) اور پلاننگ ڈیپارٹمنٹ کے انسپکٹرز کو بھی کمیٹی کا رکن نامزد کیا گیا ہے۔
محکمہ تعلیم کے نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ متعین کی گئی یہ کمیٹی لاہور کے تمام نجی تعلیمی اداروں کا دورہ کرے گی اور وہاں فراہم کردہ بنیادی سہولیات، عمارات کی مضبوطی اور حفاظتی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لے گی۔
کمیٹی کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ 5 روز کے اندر اپنی تفصیلی اور جامع رپورٹ محکمہ تعلیم کو پیش کرے۔
مہم کے دوران قانون کے مطابق مطلوبہ سہولیات اور فٹنس سرٹیفکیٹ نہ رکھنے والے تعلیمی اداروں کو فی الفور سیل کر دیا جائے گا، اور شہریوں کے بچوں کے مستقبل اور زندگیوں سے کھیلنے والے مالکان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






