اسلام آباد: العربیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور 11 جولائی کو پاکستان میں ہونے کا امکان ہے۔
العربیہ کی رپورٹ کے مطابق آئندہ مذاکرات میں ایران پر عائد پابندیوں، منجمد ایرانی فنڈز اور جوہری پروگرام سے متعلق اہم امور زیرِ بحث آئیں گے، جبکہ ایرانی وفد کی تشکیل کا حتمی فیصلہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کے بعد کیا جائے گا۔
ادھر امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے مجتبیٰ خامنہ ای کو واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
رپورٹ کے مطابق صدر پزشکیان نے معاہدے پر دستخط سے قبل مجتبیٰ خامنہ ای کو بتایا کہ بحری ناکہ بندی کے باعث ایران شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ اخبار کے مطابق ایرانی مرکزی بینک کے گورنر نے بھی خبردار کیا تھا کہ اگر محاصرہ برقرار رہا تو اگست کے آخر تک خوراک اور ادویات کے ذخائر ختم ہونے کا خدشہ ہے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق صدر پزشکیان نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ اگر امریکا کے ساتھ معاہدہ مسترد کیا گیا تو وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ اگر سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل معاہدے کی حمایت کرے تو وہ بھی اسے قبول کریں گے، جس کے بعد کونسل نے بھاری اکثریت سے منصوبے کی منظوری دے دی۔
واضح رہے کہ ایران میں سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تجہیز و تکفین کی تقریبات جاری ہیں۔ گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستانی وفد نے ان تقریبات میں شرکت کی، جس کے بعد وزیراعظم ترکیہ روانہ ہو گئے، جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پاکستان واپس پہنچ گئے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں





