پاکستان اور ترکیہ دو دل اور ایک جان ہیں، وزیراعظم شہباز شریف

استنبول: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور ترکیہ کی دیرینہ شراکت داری کو نئی جہت دینا وقت کی ضرورت ہے، دونوں ممالک نے ہر مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کا بھرپور ساتھ دیا ہے اور مستقبل میں بھی یہ رشتہ مزید مضبوط ہوگا۔

ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے شاندار استقبال اور پرتپاک میزبانی پر ترک قیادت کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے عوام کے درمیان محبت، اعتماد اور اخوت پر مبنی تاریخی تعلقات موجود ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ترکیہ کی جنگ آزادی کے دوران برصغیر کے مسلمانوں نے بھرپور حمایت کی، جبکہ بعد ازاں زلزلوں، سیلاب اور دیگر قدرتی آفات سمیت ہر مشکل وقت میں ترکیہ نے پاکستان کا ساتھ دیا، جس پر پاکستانی قوم ہمیشہ شکر گزار رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ دو دل، ایک جان ہیں اور مولانا جلال الدین رومی اور علامہ محمد اقبال کی فکر دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ وزیراعظم نے صدر اردوان کی قیادت میں ترکیہ کی معاشی، صنعتی اور سماجی ترقی کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ترکیہ کے ساتھ اپنی دوستی پر فخر کرتا ہے۔

شہباز شریف نے بتایا کہ صدر اردوان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں تجارت، سرمایہ کاری، اقتصادی تعاون، دفاع، علاقائی امن اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک پانچ ارب ڈالر کے دوطرفہ تجارتی ہدف کے حصول کے لیے پُرعزم ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان قبرص کے معاملے پر ترکیہ کے موقف کی حمایت کرتا ہے، جبکہ مسئلہ کشمیر پر ترکیہ کی اصولی اور دوٹوک حمایت پر پاکستانی قوم صدر اردوان کی شکر گزار ہے۔

اس موقع پر ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے وفد کا ترکیہ میں خیرمقدم کرتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری، دفاعی تعاون، علاقائی اور عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔

صدر اردوان نے کہا کہ ترکیہ اور پاکستان ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہیں گے، جبکہ تجارت، سرمایہ کاری اور خصوصی اقتصادی زونز کے شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ انہوں نے ترک سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی ترغیب دینے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے کی جانے والی کوششیں قابلِ تعریف ہیں اور ترکیہ ہمیشہ ان کی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے غزہ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی جارحیت ناقابلِ قبول ہے اور مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے مشترکہ عالمی کوششیں ناگزیر ہیں۔

بعد ازاں وزیراعظم شہباز شریف نے پاک۔ترک بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ استنبول ایشیا اور یورپ کو ملانے والا اہم شہر ہے، جبکہ پاکستان اور ترکیہ کا رشتہ تاریخ، اعتماد اور بھائی چارے پر استوار ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل میں پاکستان نے مخلصانہ کردار ادا کیا، جو ایک مشکل سفارتی مشن تھا، تاہم اللہ کے فضل سے جنگ بندی ممکن ہوئی اور اب اس موقع کو علاقائی امن اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ترکیہ نے صنعتی ترقی کی نئی مثالیں قائم کی ہیں اور پاکستان توانائی، نجکاری، بجلی کی تقسیم، ٹرانسمیشن سسٹم، خصوصی اقتصادی زونز، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متبادل توانائی سمیت مختلف شعبوں میں ترکیہ کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ جنگ کے دوران پاکستان نے اپنی خودمختاری اور وقار کا بھرپور دفاع کیا، جبکہ اس موقع پر ترکیہ، سعودی عرب اور دیگر دوست ممالک نے پاکستان کے مؤقف کی حمایت کی۔ وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون میں حائل رکاوٹیں دور کرتے ہوئے اپنے برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنائیں گے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close