تہران: ایران کے دارالحکومت تہران میں شہید آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کی نماز جنازہ آج اتوار کو ادا کی جائے گی، جبکہ ملک بھر سے لاکھوں افراد کی شرکت کے پیش نظر سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات انتہائی سخت کر دیے گئے ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق گزشتہ روز امام خمینی گرینڈ مصلیٰ میں عالمی وفود نے شہید آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کی میتوں کا دیدار کیا، فاتحہ خوانی کی اور تعزیتی تاثرات قلم بند کیے۔ آج عوامی دیدار کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ نماز جنازہ نماز فجر کے بعد ادا کیے جانے کی توقع ہے۔
میتوں کو شیشے کے تابوتوں میں عوامی دیدار کے لیے رکھا گیا ہے۔ صبح سویرے ہی ہزاروں سوگوار امام خمینی گرینڈ مصلیٰ پہنچنا شروع ہو گئے، جہاں مرکزی صحن مکمل طور پر عزاداروں سے بھر گیا۔ شہر بھر میں ٹریفک پر سخت پابندیاں عائد ہیں، جبکہ بڑی تعداد میں افراد کئی کلومیٹر پیدل چل کر جنازہ گاہ پہنچے۔ میٹرو اسٹیشنوں پر بھی غیر معمولی رش دیکھا گیا۔
رپورٹس کے مطابق نماز جنازہ میں 100 سے زائد ممالک کے نمائندوں سمیت ایک کروڑ سے زائد افراد کی شرکت متوقع ہے، جس کے باعث تہران میں غیر معمولی سیکیورٹی اور انتظامی انتظامات کیے گئے ہیں۔
ادھر ایران کی وزارت تعلیم نے اعلان کیا ہے کہ تہران سمیت ملک بھر میں 5 ہزار سے زائد اسکول اور تقریباً 40 سے 50 ہزار کلاس رومز بیرون شہروں سے آنے والے زائرین کی رہائش کے لیے مختص کر دیے گئے ہیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






