فیفا ورلڈ کپ 2026 میں الجزائر کے کپتان ریاض محرز کے ایک بیان نے نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ آسٹریا اور الجزائر کے درمیان کھیلا گیا میچ 3-3 سے برابر ہوا، جس کے بعد دونوں ٹیمیں راؤنڈ آف 32 کے لیے کوالیفائی کر گئیں، جبکہ ایران ٹورنامنٹ سے باہر ہو گیا۔ اس نتیجے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف سازشی نظریات گردش کرنے لگے اور بعض صارفین نے میچ پر سوالات بھی اٹھائے۔
ایران کو اگلے مرحلے میں پہنچنے کے لیے آسٹریا کی جیت درکار تھی، لیکن میچ برابر ہونے کے باعث ایرانی ٹیم تیسرے نمبر پر آنے والی ٹیموں میں جگہ نہ بنا سکی اور ورلڈ کپ سے باہر ہوگئی۔
کینساس سٹی میں کھیلے گئے اس مقابلے میں الجزائر کے کپتان ریاض محرز نے دوسرے ہاف میں دو گول کرکے الجزائر کو برتری دلائی، تاہم انجری ٹائم میں آسٹریا کے ساشا کالاجڈزچ نے گول کرکے مقابلہ 3-3 سے برابر کر دیا، جس کے نتیجے میں دونوں ٹیمیں اگلے مرحلے میں پہنچ گئیں۔
میچ کے بعد آسٹریا کے ہیڈ کوچ رالف رانگنک نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انجری ٹائم میں دونوں ٹیموں کی جانب سے کیے گئے گول اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ دونوں فریق جیتنے کی پوری کوشش کر رہے تھے۔
دوسری جانب ریاض محرز کے میچ کے بعد دیے گئے بیانات نے نئی بحث چھیڑ دی۔
ریاض محرز کا کہنا تھا کہ صورتحال کچھ عجیب تھی۔ ہم تیزی کے ساتھ کھیلنے کی کوشش کر رہے تھے جبکہ آسٹریا کے کھلاڑی زیادہ تر پیچھے رہ کر کھیل رہے تھے۔ پھر آخری لمحے میں گیند میرے پاس آئی، تو میرے پاس گول کرنے کی کوشش کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا۔ میں کھیل کے اصولوں اور فٹبال کا احترام کرتا ہوں۔
محرز نے مزید کہا کہ ان کے لیے اچھی بات یہ ہوئی کہ انہوں نے بھی گول کر لیا اور وہ بھی کوالیفائی کر گئے۔ ہم دونوں اگلے مرحلے میں پہنچ گئے، اور آج یہی سب سے اہم بات تھی۔
اپنے انجری ٹائم کے گول کے بارے میں بات کرتے ہوئے الجزائر کے کپتان نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ یہ ایک شرمندگی والی صورتحال تھی، لیکن گیند میرے پاس آئی تو میں کیا کرتا؟ مجھے گول کرنا تھا کیونکہ میں کھیل کے اصولوں کا احترام کرتا ہوں۔
ریاض محرز کے ان بیانات کے بعد سوشل میڈیا پر میچ فکسنگ سے متعلق قیاس آرائیاں بھی سامنے آئیں، تاہم اب تک فیفا یا کسی متعلقہ ادارے کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ ردعمل یا تحقیقات کا اعلان نہیں کیا گیا۔
اس میچ کے بعد کئی شائقین کو 1982 کے ورلڈ کپ کا مشہور ”ڈس گریس آف گیخون“ واقعہ بھی یاد آ گیا، جب مغربی جرمنی اور آسٹریا کے درمیان میچ کے نتیجے میں الجزائر ٹورنامنٹ سے باہر ہو گیا تھا۔ اس تاریخی مقابلے پر بھی اس وقت شدید تنقید ہوئی تھی اور بعد ازاں فیفا نے آخری گروپ میچز ایک ہی وقت میں کرانے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ ایسے تنازعات سے بچا جا سکے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






