راولپنڈی کی اڈیالہ جیل جانے والے 14 خطرناک قیدیوں کے وین سے فرار ہونے کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ یہ قیدی کہوٹہ کی کچہری میں پیشی کے بعد واپس جا رہے تھے کہ راستے میں پولیس والوں پر حملہ کر کے بھاگ نکلے۔ تاہم، پولیس نے مستعدی دکھاتے ہوئے فوری طور پر چار مفرور قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کر لیا ہے، جبکہ باقی 10 قیدیوں کو ڈھونڈنے کے لیے راولپنڈی اور اسلام آباد کے علاقوں میں ناکہ بندی کر کے بہت بڑا سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
پولیس کے اندرونی ذرائع اور افسران نے واقعے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا ہے کہ جب قیدیوں کی گاڑی کہوٹہ سے راولپنڈی جا رہی تھی، تو اسلام آباد کے علاقے سہالہ کے پاس ایک چوکی پر اسے روکا گیا۔ جیسے ہی تلاشی کے لیے گاڑی کا دروازہ کھولا گیا، تو اندر موجود ایک قیدی نے بڑی چالاکی سے پولیس اہلکاروں کی آنکھوں میں لال مرچوں کا پاؤڈر پھینک دیا، جس سے پولیس والے اندھے ہو گئے اور ملزمان فائدہ اٹھا کر بھاگ گئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گاڑی کے اندر قیدیوں نے آپس میں لڑائی کا ڈرامہ بھی رچایا تھا تاکہ پولیس والوں کا دھیان بھٹکایا جا سکے۔
اس بڑی غفلت پر اعلیٰ پولیس حکام نے سخت ایکشن لیا ہے۔ آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم نے واقعے کا سخت نوٹس لیا ہے، جس کے بعد ایس پی ہیڈ کوارٹر مدثر اقبال کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے اور ڈی ایس پی امتیاز احمد کو فوری طور پر نوکری سے معطل کر دیا گیا ہے۔
پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ اس بڑی لاپرواہی کی جانچ کے لیے ایک خاص تحقیقاتی ٹیم بنا دی گئی ہے، جس نے موقع پر ڈیوٹی دینے والے انچارج سمیت پانچ پولیس اہلکاروں کو حراست میں لے کر ان کے موبائل فون کا ڈیٹا چیک کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ پتا چل سکے کہ کہیں کسی نے اندر سے مدد تو نہیں کی تھی۔
تحقیقاتی ٹیم کے افسران کا کہنا ہے کہ ہم اس بات کی بھی پکی تفتیش کر رہے ہیں کہ قیدیوں کو ہتھکڑیاں لگی ہوئی تھیں یا نہیں، اور کہوٹہ کچہری میں ان سے کن لوگوں نے ملاقاتیں کی تھیں۔
فرار ہونے والے قیدیوں کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ معمولی چور نہیں بلکہ قتل، خطرناک ڈکیتیوں اور اقدامِ قتل جیسے سنگین جرائم میں ملوث ہیں۔
ان میں منشیات کا ملزم عالم زیب، ڈکیتی کا ملزم وہاب قیوم، احتشام شبیر، عدیل شاہ، ضیغم شاہ اور قتل کے مقدمات میں نامزد عدنان عرف دانی اور واحد عرف واحدی شامل ہیں۔
ان کے ساتھ شاہ میر، عبدالرحمن اور اسد ستی بھی اقدامِ قتل کے کیسز میں بند تھے۔
پولیس نے عام شہریوں سے اپیل کی ہے کہ یہ لوگ خطرناک ہو سکتے ہیں، اس لیے اپنے آس پاس کسی بھی مشکوک شخص کو دیکھتے ہی فوراً پولیس کو خبر کریں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






