نیویارک: امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ حملوں کے بعد عالمی منڈی میں پیر کے روز خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل کی رفتار بھی دوبارہ سست پڑ گئی۔
برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق برینٹ خام تیل کے فیوچر سودے 58 سینٹ (0.8 فیصد) اضافے کے بعد 72.57 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 88 سینٹ (1.3 فیصد) اضافے کے ساتھ 70.11 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تیل کی عالمی منڈی کو اب بھی رسد سے متعلق خدشات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق اگر خام تیل کی سپلائی مکمل طور پر بحال نہ ہوئی تو قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
یاد رہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں بہتری آنے کے بعد گزشتہ ہفتے برینٹ خام تیل کی قیمت میں 10.6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی، جو مسلسل تیسرے ہفتے کی کمی تھی۔
دوسری جانب ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں پیر کے روز ملا جلا رجحان دیکھنے میں آیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کی جانب سے ہفتے کے آخر میں ہونے والے حملوں کے بعد مزید کارروائی سے گریز پر اتفاق کی اطلاعات نے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کسی حد تک اضافہ کیا۔
ہانگ کانگ، سڈنی، ویلنگٹن، تائی پے اور منیلا کی اسٹاک مارکیٹیں مثبت زون میں بند ہوئیں، جبکہ ٹوکیو، سیول، شنگھائی، سنگاپور اور جکارتہ کی مارکیٹوں میں مندی دیکھی گئی۔
ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص بھی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز رہے۔ جنوبی کوریا کی معروف چِپ ساز کمپنیوں کے شیئرز میں گزشتہ ہفتے کی فروخت کے تسلسل کے باعث مزید کمی ریکارڈ کی گئی، اگرچہ مصنوعی ذہانت اور سیمی کنڈکٹر شعبے کی بدولت رواں سال سیول، ٹوکیو اور وال اسٹریٹ کے بڑے انڈیکس ریکارڈ بلند سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ گزشتہ چھ ماہ کے دوران ایس کے ہائنکس کے حصص میں تقریباً 300 فیصد اضافہ ہوا، تاہم حالیہ منافع خوری کے باعث سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






