اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی، جس میں آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال اور دیگر اہم قومی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ وہ جماعت اسلامی کے وفد کے ہمراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے لیے آئے ہیں کیونکہ آزاد کشمیر کی صورتحال تشویشناک ہے اور مسئلہ کشمیر انتہائی حساس نوعیت کا حامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان گزشتہ 80 برس سے مسئلہ کشمیر پر ایک واضح مؤقف رکھتا آیا ہے، تاہم حکومت کی نا عاقبت اندیشی کے باعث حالات مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں۔
اس موقع پر مولانا فضل الرحمان نے حافظ نعیم الرحمن کی آمد پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر سب سے پہلے مشعل ملک نے ان سے رابطہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یاسین ملک نے اپنی پوری زندگی کشمیر کی آزادی کے لیے وقف کی، جبکہ کشمیری عوام نے ہمیشہ اپنی جدوجہد پاکستان کے پرچم تلے جاری رکھی، یہاں تک کہ ان کے شہداء کے جنازے بھی پاکستانی پرچم میں لپٹے ہوتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے بتایا کہ کشمیر کی قیادت کا ایک بڑا وفد ان سے ملا تھا، جس نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا خط بھی پیش کیا۔ انہوں نے تعاون پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کچھ وقت مانگا اور دھرنا ملتوی کرنے کا مشورہ دیا، تاہم دھرنا برقرار رہا اور اس کے بعد مزید کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر وہ قومی اسمبلی میں بھی اظہار خیال کر چکے ہیں، جبکہ حکومت بھی اس وقت مشاورت کر رہی ہے، اس لیے اس کے مؤقف کا انتظار کیا جانا چاہیے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر حکومت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مطالبات تسلیم کر لیے گئے ہیں تو پھر کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کی وجہ بھی واضح کی جانی چاہیے تاکہ تمام فریق مثبت کردار ادا کر سکیں۔
انہوں نے زور دیا کہ آزاد کشمیر کے معاملات کو جذبات یا طاقت کے استعمال کے بجائے عقل، دانش اور مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ مسئلہ کشمیر پر حکومت کے ساتھ بات چیت اور ہر ممکن مثبت کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






