ایران امریکا جنگ بندی معاہدہ دراصل امریکا کی شکست کا اعلان ہے؟

تہران: ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی معاہدہ درحقیقت امریکا کی ناکامی اور ایرانی قوم کی استقامت کا مظہر ہے۔

آذربائیجان میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محمد باقر قالیباف نے کہا کہ یہ معاہدہ کسی دباؤ یا جبر کا نتیجہ نہیں بلکہ ایرانی عوام کی ثابت قدمی، قومی طاقت اور مزاحمت کا ثبوت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں طے پانے والا معاہدہ امریکا کی شکست کے اعلان کے مترادف ہے۔

انہوں نے خطے کے ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنی سلامتی اور استحکام کی ذمہ داری خود سنبھالیں اور بیرونی طاقتوں کی مداخلت کو مسترد کریں۔ قالیباف نے کہا کہ ایران اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ باہمی احترام اور برابری کی بنیاد پر تعاون کے فروغ کے لیے تیار ہے۔

دوسری جانب امریکا میں بھی ایران کے ساتھ جنگی پالیسی پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما چک شومر نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ نے امریکی عوام کو صرف پریشانی، افراتفری اور مالی نقصان پہنچایا ہے۔

سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے چک شومر نے کہا کہ جنگ کے ہر گزرتے لمحے کے ساتھ امریکی عوام پر مالی بوجھ بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے اس تنازع کو ایک مہنگی اور غیر ضروری جنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اپنے کسی بھی اعلان کردہ مقصد کے حصول میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ صدر ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ عوام کو معاہدے کی تفصیلات سے آگاہ کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔ چک شومر کا کہنا تھا کہ اس سمجھوتے کی تفصیلات چھپائی جا رہی ہیں کیونکہ حکومت اپنی ناکامیوں کو عوام کے سامنے لانے سے خوفزدہ ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایران سے متعلق جنگی صورتحال کا فوری خاتمہ کیا جائے اور کہا کہ یہ تنازع شروع ہی نہیں ہونا چاہیے تھا۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close