کراچی: پیٹرول کی قیمت میں گزشتہ جمعے کو حکومت کی جانب سے 74 روپے کی نمایاں کمی کے باوجود عوام کو عملی طور پر کوئی ریلیف نہ مل سکا، جبکہ اشیائے خورونوش اور ٹرانسپورٹ کرایوں میں بھی خاطر خواہ کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔
کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں صورتحال پر مختلف رپورٹس کے مطابق ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں معمولی یا بالکل بھی کمی نہیں کی، جبکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بدستور بلند سطح پر برقرار ہیں۔
کراچی میں انٹرسٹی بس اڈوں پر اندرونِ سندھ جانے والے کرایوں میں صرف 100 روپے تک کمی کی گئی، جسے شہریوں نے انتہائی ناکافی قرار دیا۔ بدین، سکھر، لاڑکانہ اور حیدرآباد کے کرایے بڑی حد تک پہلے جیسے ہی رہے، جبکہ لمبے روٹس جیسے اسلام آباد اور پشاور کے کرائے بھی برقرار ہیں۔
اشیائے خورونوش میں دودھ 240 روپے فی لیٹر، دہی 350 سے 400 روپے فی کلو، اور دالیں بھی 350 سے 400 روپے فی کلو کی سطح پر برقرار ہیں۔
پشاور میں بھی پیٹرول کی قیمت میں کمی کے باوجود کرایوں یا روزمرہ اشیا کی قیمتوں میں کوئی واضح کمی سامنے نہیں آئی۔ سبزیاں 100 سے 300 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہیں، جبکہ زندہ مرغی کی قیمت 305 سے بڑھ کر 345 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔
کوئٹہ میں بھی اسی طرح کی صورتحال دیکھی گئی جہاں پیٹرول کی قیمت میں کمی کے باوجود ٹرانسپورٹ کرائے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بدستور بلند سطح پر برقرار ہیں۔
یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 74 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 67 روپے کمی کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 373 روپے سے کم ہو کر 299 روپے اور ڈیزل 378 روپے سے کم ہو کر 311 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی تھی۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ قیمتوں میں کمی کا فائدہ عملی طور پر عوام تک پہنچانے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں اور پرائس کنٹرول نظام کو فعال بنایا جائے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






