مذاکرات کا پہلا دور مکمل: ایران کا ٹرمپ کے بیانات پر احتجاج، اہم مطالبہ

سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں پاکستان اور قطر کی ثالثی میں جاری امریکا اور ایران کے مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہونے کے بعد مختصر وقفہ کیا گیا ہے۔ ابتدائی مرحلے کے اختتام پر چاروں وفود اپنے اپنے کمروں میں واپس چلے گئے جہاں آئندہ نشستوں کے لیے مشاورت جاری ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق مذاکرات کے پہلے مرحلے میں لبنان کی صورتحال اور مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد سے متعلق امور زیر بحث آئے، جبکہ ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دھمکی آمیز بیانات پر بھی احتجاج ریکارڈ کرایا۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق پہلے دور میں لبنان کی صورتحال اور جنگ بندی کے معاملات پر بات چیت کی گئی، جبکہ آئندہ نشستوں میں آبنائے ہرمز، بحری نقل و حمل، ایران کے جوہری پروگرام اور اس پر عائد پابندیوں پر تفصیلی گفتگو متوقع ہے۔

پہلے دور کے اختتام کے بعد وفود نے مختصر وقفہ لیا، جس کے بعد مذاکرات کا دوسرا مرحلہ جلد شروع ہونے کی توقع ہے۔

برگن اسٹاک میں ہونے والے ان اعلیٰ سطحی مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں، جبکہ وفد میں جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف بھی شامل ہیں۔

ایرانی وفد کی قیادت پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں، جبکہ وزیر خارجہ عباس عراقچی، علی باقری، عبدالناصر ہمتی، کاظم غریب آبادی اور اسماعیل بقائی بھی وفد کا حصہ ہیں۔

پاکستان اس عمل میں مرکزی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور دیگر اعلیٰ حکام سوئٹزرلینڈ میں موجود ہیں، جبکہ قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی بھی ثالثی کی کوششوں میں شریک ہیں۔

مذاکرات سے قبل کئی دلچسپ مناظر بھی دیکھنے میں آئے۔ ایرانی وفد نے میڈیا سے گفتگو اور فوٹو سیشن میں شرکت نہیں کی۔ کانفرنس ہال میں سب سے پہلے امریکی وفد داخل ہوا، جس کا استقبال وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کیا۔ بعد ازاں عباس عراقچی ہال میں پہنچے اور پاکستانی قیادت سے ملاقات کے بعد اپنی نشست پر چلے گئے۔

اس دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور قطری وزیراعظم نے بھی مذاکرات سے قبل میڈیا سے مختصر گفتگو کی۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات سے پہلے قطر کی ثالثی میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان ایک براہ راست ملاقات بھی ہوئی، تاہم اس کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے مذاکرات سے قبل امید ظاہر کی کہ بات چیت مثبت اور نتیجہ خیز ثابت ہوگی۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو بھی سراہا۔

جے ڈی وینس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے انہیں مشرق وسطیٰ کے مسائل کے حل کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے کا اختیار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند گھنٹوں میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور یہ مذاکرات دونوں ممالک کے تعلقات میں نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے پاکستان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران ان کی فیلڈ مارشل سے سب سے زیادہ گفتگو ہوئی ہے اور ان کے کردار کے بغیر یہ پیش رفت ممکن نہ تھی۔

قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے بھی مذاکراتی عمل کی تعریف کرتے ہوئے اس پیش رفت کا کریڈٹ پاکستان کو دیا اور کہا کہ یہ کوششیں نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت کے استحکام کے لیے بھی اہم ہیں۔

مذاکرات سے قبل ایرانی وفد نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی، جبکہ پاکستانی قیادت کی امریکی وفد سے بھی الگ ملاقات ہوئی جس میں جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شریک تھے۔

پاکستانی میڈیا کے سوال پر جے ڈی وینس نے کہا کہ پاکستان نے امن کے لیے بہترین کردار ادا کیا ہے اور “ہم پاکستان سے محبت کرتے ہیں”۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے حوالے سے سخت بیانات دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران معاہدے پر راضی نہ ہوا تو امریکا سخت اقدامات کرے گا۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ تمام آپشنز امریکا کے پاس موجود ہیں اور ضرورت پڑنے پر واشنگٹن آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی اقدامات کر سکتا ہے۔

انہوں نے لبنان کے معاملے پر بھی ایران پر دباؤ بڑھاتے ہوئے کہا کہ تہران کو اپنی حمایت یافتہ قوتوں کو روکنا ہوگا، بصورت دیگر امریکا مزید سخت کارروائی کر سکتا ہے۔

ادھر ایران پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ لبنان کی صورتحال اور جنگ بندی اس کی مذاکراتی ترجیحات میں شامل ہیں اور کسی مستقل پیش رفت کے لیے اس حوالے سے واضح ضمانتیں ضروری ہیں۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close