ایران امریکا مذاکرات: وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے

ایران اور امریکا مذاکرات کے سلسلے میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے ہیں۔

پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک اسکی ریزورٹ میں آج ہوں گے۔

ثالث کی حیثیت سے وزیراعظم وفد کے ہمراہ سوئٹزرلینڈ پہنچے ہیں۔ شہباز شریف کے ہمراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی موجود ہیں۔

وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے بعد یہ پہلی باضابطہ اعلیٰ سطح کی ملاقات ہوگی۔ مذاکرات میں طے شدہ مفاہمتوں پر عمل درآمد کا جائزہ لیا جائے گا جبکہ پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والی مفاہمتوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

اس سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، وائٹ ہاؤس کے نمائندے اسٹیو وٹکوف اور صدر کے مشیر جیرڈ کشنر سوئٹزرلینڈ پہنچ چکے ہیں۔

مذاکرات کے دوسرے فریق ایران کا وفد اسپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں سوئٹزرلینڈ میں موجود ہے۔ ایرانی وفد میں وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ترجمان وزارت خارجہ اسماعیل بقائی بھی شامل ہیں۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق اس وفد کو “ون سکسٹی ایٹ” کا نام دیا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات آج متوقع ہیں۔

سوئس وزارت خارجہ نے مذاکرات کے لیے پہنچنے والے امریکا اور ایران کے وفود کے ساتھ ثالث کے طور پر پاکستان کا خیر مقدم کیا ہے۔

دوسری جانب ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق امریکا چاہتا ہے کہ مذاکرات کے پہلے دور کے اختتام پر ایران اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو اپنی جوہری تنصیبات کے دورے کی دعوت دے، جنہیں امریکا اور اسرائیل نے نشانہ بنایا تھا۔ ایسے معائنے کا آخری دورہ جون 2025 میں جنگ سے قبل ہوا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کے بدلے امریکا ایران کو منجمد فنڈز کے ایک حصے تک رسائی دینے پر آمادہ ہے، جس کا آغاز قطر میں موجود 6 ارب ڈالر کے فنڈ سے کیا جا سکتا ہے۔ ان فنڈز کو ایران انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اشیا کی خریداری کے لیے استعمال کر سکے گا۔

واضح رہے کہ سوئٹزرلینڈ کے علاقے برگن اسٹاک میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد سے متعلق مذاکرات ہوں گے، جن میں ایران، قطر، امریکا اور پاکستان کے اعلیٰ سطح کے وفود شرکت کریں گے۔ ان کے علاوہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے ڈائریکٹر بھی مذاکرات میں شریک ہوں گے۔

 

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close