نئے مالی سال میں کوئی نیا ٹیکس نافذ نہیں ہوگا، وزیراعلیٰ

پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کے لیے متعدد ٹیکس چھوٹوں کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ نئے مالی سال میں کوئی نیا ٹیکس نافذ نہیں کیا جائے گا۔

صوبائی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ حکومت نے انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس کی شرح 2 فیصد سے کم کرکے 0.75 فیصد کرنے کی تجویز دی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 5 مرلے تک کی رہائشی اور کمرشل جائیدادوں کو پراپرٹی ٹیکس سے استثنیٰ دینے کی تجویز بھی بجٹ کا حصہ ہے، جس سے کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف ملے گا۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق ہوٹل بیڈ ٹیکس کی شرح 7 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ کم از کم آمدنی رکھنے والے افراد پر عائد پروفیشنل ٹیکس ختم کرنے اور گریڈ ایک سے 6 تک کے سرکاری ملازمین کو بھی پروفیشنل ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دینے کی سفارش کی گئی ہے۔

وزیراعلیٰ نے مزید بتایا کہ صنعتی عمارتوں کے ٹیکس بقایاجات پر 30 فیصد رعایت دینے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے تاکہ صنعتی شعبے کو سہولت فراہم کی جا سکے۔

صوبائی حکومت نے سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ٹیکس ریلیف پالیسی برقرار رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان علاقوں میں بھی آئندہ مالی سال کے دوران کوئی نیا ٹیکس نافذ نہیں کیا جائے گا۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close