اسلام آباد: آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور سے جماعت اسلامی آزادکشمیر کے امیر ڈاکٹر محمد مشتاق خان نے وفد کے ہمراہ ملاقات کی، جس میں آزادکشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال اور بحران کے حل کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔
ملاقات میں جماعت اسلامی کے وفد میں جنرل سیکرٹری راجہ جہانگیر خان، ڈپٹی سیکرٹری جمیل راٹھور اور مرکزی سیکرٹری اطلاعات راجہ ذاکر خان شامل تھے، جبکہ سابق رکن اسمبلی راجہ مسعود ممتاز راٹھور اور راحیل ملک بھی اس موقع پر موجود تھے۔
وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ حکومت کی رٹ ہر صورت برقرار رکھنا اور عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے، اسی مقصد کے تحت ضروری اقدامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے متعلقہ فریقوں کو آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی، تاہم انہوں نے شرکت سے انکار کیا۔ ان کے بقول، انہوں نے ذاتی طور پر بھی مخالف قیادت سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی لیکن اس پیشکش کو بھی قبول نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ابتدا ہی سے مذاکرات کے ذریعے معاملات کا حل چاہتی ہے، مگر جب دوسرا فریق کسی بھی تجویز یا آپشن پر بات کرنے کے لیے آمادہ نہ ہو تو حکومت کے پاس محدود راستے رہ جاتے ہیں۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری بھی اس بات کا اظہار کر چکے ہیں کہ آزادکشمیر حکومت کے ساتھ ہونے والے معاہدوں پر عملدرآمد کیا جا چکا ہے۔
فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ اگر متعلقہ حلقے احتجاجی کال واپس لیتے ہیں تو آزادکشمیر کی دیگر سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے ذریعے دوبارہ مذاکرات کا آغاز کیا جا سکتا ہے تاکہ موجودہ کشیدگی کا پرامن حل تلاش کیا جا سکے۔
اس موقع پر جماعت اسلامی آزادکشمیر کے امیر ڈاکٹر محمد مشتاق خان نے کہا کہ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمن کو آزادکشمیر کی صورتحال پر شدید تشویش ہے اور ان کا واضح پیغام ہے کہ تمام معاملات کو خوش اسلوبی، تحمل اور مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ عام شہریوں کے خلاف طاقت کے استعمال سے گریز کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی آزادکشمیر موجودہ بحران کے حل اور سیاسی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے اپنا مثبت اور مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






