اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ دو صوبوں میں امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث دفاعی بجٹ میں اضافہ کیا گیا ہے۔
قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرنے کے بعد ایک انٹرویو میں وزیر خزانہ نے دفاعی بجٹ میں اضافے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو دو سرحدوں پر سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، اسی لیے دفاعی اخراجات کو موجودہ حالات کے مطابق بڑھایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ بجٹ میں بھی معیشت کو درست سمت دینے کی کوشش کی گئی تھی جبکہ اس بار عملی اقدامات کیے گئے ہیں۔ کنسٹرکشن انڈسٹری کے ٹرانزیکشن ٹیکس میں نمایاں کمی کی گئی ہے تاکہ معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے۔
وزیر خزانہ کے مطابق حکومت تسلیم کرتی ہے کہ کارپوریٹ اور تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ بڑھا ہے، تاہم معاشی حالات کے مطابق فیصلے کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹرز کو فنانسنگ ساڑھے 4 فیصد پر فراہم کی جائے گی تاکہ برآمدات میں اضافہ ہو سکے۔
محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ حکومت کا مقصد ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور ان شعبوں سے ٹیکس وصولی یقینی بنانا ہے جہاں لیکجز اور کرپشن موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے پراپرٹی ٹرانزیکشن ٹیکس میں کمی کی ہے اور پالیسی واضح ہے کہ مزید نئے ٹیکس نہیں لگائے جائیں گے۔ ان کے مطابق معاشی استحکام ضروری ہے مگر یہ منزل نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل ہے۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ معیشت کو حالیہ عرصے میں کئی چیلنجز کا سامنا رہا جن میں خطے کی کشیدگی، عالمی مہنگائی اور قدرتی آفات شامل ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جی ڈی پی گروتھ کو 3.75 سے بڑھا کر 4.75 فیصد تک لے جایا جا سکے گا۔
روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ اپریل اور مئی میں مجموعی طور پر 600 ملین ڈالر سے زائد کی آمد ہوئی، جو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے اعتماد کا مظہر ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






