وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ 2026-27 میں دفاعی بجٹ میں اضافے کی وجہ بتادی ان کا کہنا ہے کہ دو صوبوں میں امن و امان کی خرابی کے پیش نظر دفاعی بجٹ بڑھایا۔
بجٹ پیش کرنے کے بعد وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے دفاعی بجٹ میں اضافے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے دو بارڈرز پر سیکیورٹی ایشوز کے تحت دفاعی بجٹ کو مد نظررکھنا ہے، دو صوبوں میں خراب حالات کے پیش نظر دفاعی بجٹ بڑھایا۔
وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ پچھلے بجٹ میں بھی کہا تھا کہ ہم نے آگے بڑھنے کی سمت دی ہے، موجودہ بجٹ میں ہم نے آگے بڑھنے کا عملی قدم اٹھایا ہے، کنسٹرکشن انڈسٹری کے ٹرانزکشن ٹیکسز میں خاطرہ خواہ کمی لائے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس بات کا ادراک ہے کہ کارپوریٹ سیکٹر، تنخواہ دار پر ٹیکس کا بوجھ بڑھا ہے، کہا جاتا ہے کہ مہنگائی بڑھنے سے پالیسی ریٹ ساڑھے 11فیصد ہوگیا،
ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ ایکسپورٹرز کو جو فنانسنگ ملے گی وہ ساڑھے 4 فیصد پر رہے گی ،
حکومت نے ایکسپورٹ بڑھانے کیلئے یہ بڑا قدم اٹھایا ہے، میں خود اب تنخواہ نہیں لے رہا ہوں یہ میری عوامی خدمت کا حصہ ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ ہم نے اتحادیوں اور صوبوں سے کہا کہ بجٹ کیلئے ہمیں مدد فراہم کریں، ہم نے پراپرٹی ٹرانزکشن ٹیکس کو آدھا کردیا ہے، حکومت اس بات پر واضح ہے کہ نئے ٹیکسز نہیں لگانے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ جس سیکٹر میں کرپشن اور لیکجز ہیں ان کو تو ٹھیک کرنا ہے۔ مل؛کی میعیشت کی بہتری کیلیے ٹیکس نیٹ سے باہر لوگوں کو اب لازمی ٹیکس دینا چاہیے۔
حکومت کی کوشش تھی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ کم ہو، معاشی استحکام کبھی بھی منزل نہیں ہوتا تاہم اس تک پہنچنا بہت ضروری تھا، میں نے کہا ہم دنیا میں کیوں جائیں جبکہ ہمارے پاس اپنے وسائل موجود ہیں۔
وفاقی وزیرخزانہ نے کہا کہ ملک میں سیلاب آئے تو ہمیں کہا جاتا ہے کہ دنیا میں جاکر اپیل کریں، وزیراعظم کے پاس گیا کہ اور کہا کہ ہم کیوں ہر چیز کیلئے اپیل کرنے باہر جاتے ہیں؟
آج ہم نے پرو گروتھ بجٹ پیش کیا ہے، پرو گروتھ بجٹ میں مجھے پوری امید ہے کہ پرائیوٹ سیکٹر ہمارا ہاتھ تھامے گا۔ ہماری معیشت کو ٹریڈ ٹیرف، سیلاب اور خطے کی جنگ جیسے تین جھٹکے لگے، ڈیٹ لے کر ریسکیو ریلیف آپریشن کرنا ہے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں، اتفاق کرتے ہیں جی ڈی پی گروتھ کو ہم 3.75سے 4.75 پر لائیں گے۔
پاکستان میں امپورٹڈ مہنگائی بڑھی ہے جیسے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، اللہ کرے ایک دو ہفتے میں امریکا ایران میں سیز فائر ہو اور معاہدے پر دستخط ہوجائے، معاہدہ ہوجائے تو اگلے تین سے 6 ماہ ہماری معیشت پر اس جنگ کا اثر رہے گا۔
انہوں نے بتایا کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے تحت اپریل میں 322 ملین ڈالر آئے ہیں، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے تحت مئی میں بھی 300ملین ڈالر سے زائد آئے ہیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






