اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ صوبوں پر مالی بوجھ ڈالنا وفاقی حکومت کی ناکامی کا اعتراف ہے، عوام حکومت سے پوچھ رہے ہیں کہ چار سال میں معاشی اصلاحات کیوں نہ ہو سکیں۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ کسی بھی دشمن کے خلاف پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہونا چاہیے اور دفاعی ضروریات پوری کرنا حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت چار سال کے دوران ایف بی آر میں مؤثر اصلاحات لانے میں ناکام رہی۔
انہوں نے کہا کہ روپے کی قدر میں کمی اور معاشی بدانتظامی وفاقی حکومت کی ناکامی ہے، حکومت پنشن، اخراجات میں کمی اور اصلاحات سے متعلق اپنے وعدے پورے نہیں کر سکی۔ ان کے بقول ریٹیل، رئیل اسٹیٹ اور زرعی شعبے میں بھی مؤثر اصلاحات نہیں کی جا سکیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کے حصے میں کمی آئینی طور پر ممکن نہیں، جبکہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کے حصے میں کمی غیر آئینی ہوگی۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عوامی وسائل کے امین ہیں اور وہ صوبائی مفادات کا تحفظ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ عوام یہ سوال کر رہے ہیں کہ چار سال میں معاشی اصلاحات کیوں نہ ہو سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کے معاملے پر صوبے اپنا جائز حق مانگ رہے ہیں، یہ سیاسی نہیں بلکہ عوامی مسئلہ ہے، اس لیے تمام سیاسی جماعتوں کو اس معاملے پر ایک مؤقف اپنانا چاہیے۔
بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ صوبوں کے حقوق کے حصول کے لیے مشترکہ جدوجہد ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو نامزد کیا تھا اور تمام ارکان ان کے ساتھ ہیں، جبکہ پارٹی کے اندر اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے گا۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






