اسلام آباد: کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے منسوب شرپسند عناصر کی مبینہ پرتشدد کارروائیوں کی ویڈیو منظرِ عام پر آ گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق راولاکوٹ میں پیش آنے والے واقعات کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ کارروائیاں منظم منصوبہ بندی کے تحت انجام دی گئیں، جن میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور حالات کو کشیدہ بنانے کی کوشش کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق 7 جون کی رات سی ایم ایچ راولاکوٹ میں تعینات پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں ایک اہلکار شہید ہوگیا۔ مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسپتال کے اندر موجود مریضوں اور طبی عملے کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ اسپتال کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی انسانی قوانین اور جنیوا کنونشن کے تحت اسپتالوں، مریضوں اور طبی عملے کو خصوصی تحفظ حاصل ہوتا ہے، اس لیے طبی مراکز پر حملے سنگین خلاف ورزی تصور کیے جاتے ہیں۔
ادھر حکام نے واقعے میں ملوث عناصر کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں تیز کر دی ہیں جبکہ مطلوب افراد کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے انعام کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ قانون ہاتھ میں لینے والے عناصر کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں





