آزاد کشمیر میں ڈیڈ لاک کیوں ہوا؟ رانا ثناء اللہ

اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کیے گئے اور اس کے بیشتر مطالبات تسلیم کر لیے گئے، تاہم مہاجرین کی نشستوں کے معاملے پر تاحال ڈیڈ لاک برقرار ہے۔

سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ گلگت بلتستان میں انتخابات پرامن ماحول میں منعقد ہوئے اور انتخابی عمل مجموعی طور پر شفاف اور منظم رہا۔ انہوں نے بتایا کہ جن حلقوں سے شکایات موصول ہوئی ہیں وہاں 15 جون کو دوبارہ پولنگ کرائی جائے گی تاکہ انتخابی عمل پر کسی قسم کے اعتراضات باقی نہ رہیں۔

انہوں نے کہا کہ مختلف سیاسی جماعتوں، بشمول پاکستان تحریک انصاف، نے گلگت بلتستان میں بھرپور انتخابی مہم چلائی، تاہم کسی بڑی جماعت نے انتخابی دھاندلی کے حوالے سے باضابطہ شکایت درج نہیں کرائی، جو انتخابی عمل پر اعتماد کا مظہر ہے۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ آزاد کشمیر میں سرگرم عوامی ایکشن کمیٹی کا کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں، تاہم حکومت نے عوامی مسائل کے حل کے لیے اس کے ساتھ مذاکرات کیے۔ ان کے مطابق مذاکرات کے نتیجے میں آزاد کشمیر میں بجلی کی قیمت 3 روپے فی یونٹ مقرر کی گئی اور متعدد عوامی مطالبات تسلیم کیے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت تھی کہ عوامی فلاح سے متعلق مطالبات کو منظور کیا جائے۔ اس سلسلے میں عوامی ایکشن کمیٹی کے 38 مطالبات میں سے 37 پر تحریری معاہدہ کیا گیا جبکہ مہاجرین کی نشستوں سے متعلق پیش کیے گئے تین مطالبات بھی تسلیم کیے گئے۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا ایک مطالبہ یہ تھا کہ مہاجرین کی 12 نشستیں ختم کر دی جائیں اور ان نشستوں پر منتخب اراکین کو وزارتیں، ترقیاتی فنڈز اور سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ نہ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مہاجرین کی نمائندگی ختم کر دی جائے تو یہ ایک سنگین مسئلہ ہوگا کیونکہ شہید مقبول بٹ بھی مہاجر تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایکشن کمیٹی کو معلوم تھا کہ 4 اگست سے قبل انتخابات ہونا ہیں اور ان کا مقصد انتخابات کے انعقاد میں رکاوٹ ڈالنا تھا۔ رانا ثنا اللہ کے مطابق 30 مئی کو حکومت نے آزاد کشمیر حکومت کو تمام 37 مطالبات سے متعلق مکمل تفصیلات فراہم کر دی تھیں۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close