شہر میں گندم اور آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث عوام، خصوصاً کم آمدنی والے طبقے کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق گندم کی قیمت 4 ہزار روپے فی من تک پہنچ چکی ہے، جبکہ سرکاری طور پر گندم کی قیمت 3500 روپے فی من مقرر ہے۔ گندم کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات آٹے کی قیمتوں پر بھی واضح طور پر پڑ رہے ہیں۔
چکیوں پر آٹا 160 روپے فی کلوگرام تک فروخت کیا جا رہا ہے، جبکہ فلور ملوں کا 10 کلوگرام آٹے کا تھیلا 1100 روپے اور 20 کلوگرام کا تھیلا 2200 روپے میں دستیاب ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے موجودہ دور میں آٹے جیسی بنیادی ضرورت کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے گھریلو بجٹ کو شدید متاثر کیا ہے۔ کم آمدنی والے افراد نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آٹے اور گندم کی قیمتوں میں کمی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔
دوسری جانب آٹا ڈیلرز کا مؤقف ہے کہ گندم کی قیمتوں میں اضافے اور دیگر پیداواری اخراجات بڑھنے کے باعث آٹے کی قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔ عوامی حلقے اب حکومت کی جانب سے ممکنہ ریلیف اقدامات کے منتظر ہیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






