کانفرنس میں وہ وارننگ جس نے اسلام آباد کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا

اسلام آباد :   پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنماؤں اسد قیصر، مصطفیٰ نواز کھوکھر اور نور الحق قادری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں گلگت بلتستان جانے سے روکا گیا، جبکہ دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنما سکردو پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔

اسد قیصر نے کہا کہ پنجاب پولیس نے انہیں گلگت بلتستان جانے سے روک دیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایک منتخب رکنِ قومی اسمبلی کو کس اختیار کے تحت سفر سے روکا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر اور موجودہ رکن ہیں، جبکہ گلگت بلتستان ایک سیاحتی خطہ ہے جہاں دنیا بھر سے لوگ آتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت کو روکنا اور دوسری جماعتوں کو اجازت دینا سیاسی امتیاز کے مترادف ہے۔ اسد قیصر نے چیف الیکشن کمشنر سے مطالبہ کیا کہ تمام جماعتوں کو یکساں مواقع فراہم کیے جائیں، بصورت دیگر وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں۔

اسد قیصر نے مزید کہا کہ جنید اکبر کے ساتھ روا رکھا گیا سلوک افسوسناک ہے، جبکہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنے ووٹ کے درست استعمال اور اس کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہیے۔

مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ حکومتی اقدامات کے باعث ہزاروں مسافر شدید گرمی میں انتظار کرتے رہے اور متعدد افراد کی پروازیں بھی متاثر ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اپنا پانچواں بجٹ پیش کرنے جا رہی ہے، لیکن عوام کو ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکا، جبکہ کاروبار، زراعت اور روزگار کے شعبے مشکلات کا شکار ہیں۔

نور الحق قادری نے کہا کہ اسد قیصر کو گلگت بلتستان جانے سے روکنا قبل از انتخاب دھاندلی کے مترادف ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وہاں سیاسی وفاداریاں تبدیل کرانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، تاہم گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں گے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close