منشیات فروش ملزمہ انمول عرف پنکی کے خلاف مختلف مقدمات کی سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کی جانب سے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ملزمہ کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
ذرائع کے مطابق کراچی کے جوڈیشل کمپلیکس میں جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں منشیات ڈیلر انمول عرف پنکی کے خلاف قتل اور منشیات سے متعلق مقدمات کی سماعت ہوئی۔
دورانِ سماعت تفتیشی افسران اور سرکاری وکلا کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ ملزمہ سے منشیات کے نیٹ ورک کے حوالے سے مزید تفتیش درکار ہے، اس لیے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی جائے۔
پراسیکیوشن کے مطابق بوٹ بیسن اور ڈیفنس تھانوں میں درج مقدمات میں ملزمہ انمول عرف پنکی کے رائیڈرز کو گرفتار کیا جاچکا ہے جبکہ ملزمہ خود مقدمات میں مفرور رہی، اس لیے مزید تحقیقات کے لیے جسمانی ریمانڈ ناگزیر ہے۔
تاہم عدالت نے پولیس کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ملزمہ کو تمام مقدمات میں عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے تفتیشی افسران کو ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر مقدمات کا چالان عدالت میں پیش کیا جائے۔
عدالت کا کہنا تھا کہ کیسز کی تفتیش مکمل کرکے مقررہ وقت میں چالان جمع کرایا جائے تاکہ مقدمات کی کارروائی کو آگے بڑھایا جاسکے۔
واضح رہے کہ منشیات فروش ملزمہ انمول عرف پنکی کو سخت سیکیورٹی میں جوڈیشل کمپلیکس منتقل کیا گیا تھا، جہاں انہیں مختلف مقدمات میں عدالت کے روبرو پیش کیا جائے گا۔
پولیس حکام کے مطابق ملزمہ انمول عرف پنکی کو بھاری نفری اور سخت حفاظتی انتظامات کے تحت جوڈیشل کمپلیکس لایا گیا تھا۔
پیشی کے موقع پر سینٹرل جیل اور اطراف میں سیکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کیے گئے جبکہ صحافیوں کے جوڈیشل کمپلیکس میں داخلے پر بھی پابندی عائد کردی گئی تھی۔
پولیس کا کہنا تھا کہ انمول عرف پنکی کے خلاف کراچی کے مختلف تھانوں میں 16 سے زائد مقدمات درج ہیں۔ ملزمہ پر قتل، منشیات فروشی، غیرقانونی اسلحہ رکھنے اور دیگر سنگین جرائم کے الزامات ہیں۔
تفتیشی حکام کے مطابق ملزمہ کے خلاف درخشاں، گزری، بغدادی، گارڈن، بوٹ بیسن اور ڈیفنس تھانوں میں مقدمات درج ہیں جبکہ منشیات کے مبینہ نیٹ ورک سے متعلق مزید تحقیقات جاری ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمہ کی پیشی کے باعث عدالت کے اطراف سیکیورٹی ہائی الرٹ رکھی گئی تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جاسکے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






