افریقی ممالک سے شروع ہونے والے ایبولا وائرس نے پوری دنیا کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی، عالمی ادارہ صحت نے بھی وبا کو عالمی سطح پر عوامی صحت کیلئے تشویشناک قرار دے دیا ہے۔
پاکستانی وزارت صحت نےایبولا وائرس کےممکنہ خطرےکے پیش نظر پیشگی حفاظتی اقدامات شروع کر دیئے ہیں، وزارت صحت کی جانب سے قومی ادارہ صحت کو ضروری اقدامات کرنے اور لیبارٹری کٹس دستیاب رکھنےکی ہدایت جاری کردی گئی۔
وزارت صحت نےبارڈر ہیلتھ سروسز کو بھی ایبولا وائرس کےحوالے سے الرٹ رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہےکہ ایئرپورٹس پر یوگنڈا اور کانگو سے آنے والے مسافروں کی خصوصی نگرانی کی جائے۔
حکام کےمطابق ایبولاہیمرجک فیورکی علامات ڈینگی وائرس سے ملتی جلتی ہیں، جس کے باعث طبی عملےکو بھی محتاط رہنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔
وفاقی وزارت قومی صحت کےحکام کاکہنا ہےکہ پاکستان میں صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں ہے اورکسی قسم کی تشویش کی ضرورت نہیں۔
دوسری جانب افریقی ممالک میں اب تک ایبولا وائرس کے 300 مشتبہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جبکہ 80 اموات بھی سامنے آئی ہیں،سینٹرفار ڈیزیز کنٹرول امریکا کی ٹیم بھی دونوں متاثرہ افریقی ممالک میں پہنچ گئی۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






