عید الضحیٰ کے ایام اکثر یہی ہوتا ہے جب ہم قربانی کا جانور گھر لاتے ہیں تو وہ بیمار ہوجاتے ہیں یا کھانا پینا چھوڑ دیتے ہیں، اس کا ایک آسان سا حل ویٹرنری ماہر نے بتادیا۔
ملک بھر کی مویشی منڈیوں میں قربانی کے جانور پہنچنا شروع ہوگئے ہیں جبکہ شہری اس شدید گرمی میں خریداری میں مصروف ہیں۔
اس حوالے سے اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں ویٹرنری ڈاکٹر فیضان پٹھان نے گرمیوں کے موسم میں جانوروں کو ہونے والے امراض اور ان کی دیکھ بھال سے متعلق اہم ہدایات بتائیں۔
انہوں نے کہا کہ قربانی کے جانور جب مختلف شہروں اور دیہی علاقوں سے طویل سفر طے کرکے منڈیوں اور پھر گھروں تک پہنچتے ہیں تو وہ شدید تھکن اور ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں، ایسے میں جانوروں کو فوری طور پر کھانے پینے پر مجبور کرنے یا انہیں ہجوم میں رکھنے سے ان کی حالت مزید خراب ہوسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جانور جتنا زیادہ سفر کرکے آئے، اسے اتنا ہی زیادہ آرام دینا ضروری ہے۔ اگر جانور کو ایک سے دو گھنٹے کا سفر کرنا پڑا ہے تو اسے کم از کم اتنے ہی وقت کا سکون اور آرام ملنا چاہیے تاکہ وہ خود کو ماحول سے ہم آہنگ کرسکے۔
ماہرین کے مطابق شدید گرمی میں جانوروں کو کھلی دھوپ میں باندھنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ اس کے لیے سایہ دار، نرم مٹی، اور ٹھنڈی جگہ کا انتظام کیا جائے تاکہ وہ آرام سے بیٹھ سکیں۔
ڈاکٹر فیضان نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں اکثر لوگ جانور آنے کے بعد شور شرابہ، بچوں کی بھیڑ اور دکھاوے کی وجہ سے جانور کو مسلسل پریشان رکھتے ہیں، جس سے وہ مزید دباؤ میں آجاتا ہے۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ بچوں کو جانوروں کے ساتھ نرمی اور محبت سے پیش آنے کی تربیت دی جائے۔
انہوں نے مختلف “ٹوٹکوں” سے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ قربانی کے جانوروں کو مرچیں کھلانا یا غیر ضروری چیزیں دینا نقصان دہ ہوسکتا ہے۔
بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ قربانی کا جانور مرچ کھلانے سے زیادہ خوراک کھاتا ہے، حالانکہ یہ عمل جانور کے معدے اور صحت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
ماہرین نے ہدایت کی کہ جانوروں کو مناسب مقدار میں پانی، سبز چارہ اور متوازن خوراک دی جائے۔ گرمی کے موسم میں گڑ ملا پانی یا گلوکوز دینا جانور کو فوری توانائی اور دباؤ سے نجات دینے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ جانوروں کو اچانک زیادہ مقدار میں “خال”، “چوکر” یا پروٹین والی خوراک دینا بھی نقصان دہ ہوسکتا ہے کیونکہ اس سے قبض اور ہاضمے کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔
ویٹرنری ماہرین نے مزید کہا کہ اگر جانور بار بار پانی کا برتن گرا رہا ہو تو اسے مارنے یا ڈانٹنے کے بجائے یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ گرمی سے پریشان ہے اور ٹھنڈک حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ جانور کے تیز سانس لینا، بے چینی اور بار بار جگہ تبدیل کرنا “ہیٹ اسٹریس” کی علامات ہوسکتی ہیں۔
ماہرین نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ قربانی کے جانوروں کے ساتھ محبت اور نرمی کا رویہ اختیار کریں، انہیں آرام کا موقع دیں اور کسی بھی بیماری یا کمزوری کی صورت میں مستند ویٹرنری ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






