بجٹ 27-2026: آئی ایم ایف کا ایک اور بڑا مطالبہ سامنے آ گیا

آئندہ مالی سال 27-2026 کے لیے قومی بجٹ کی تیاریاں جاری ہیں ایسے میں آئی ایم ایف نے ایک اور بڑا مطالبہ کر دیا ہے۔

آئندہ مالی سال 27-2026 کے لیے قومی بجٹ کی تیاریاں جاری ہیں۔ وفاقی حکومت آئی ایم ایف اور اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت جاری ہے۔ ایسے میں عالمی مالیاتی ادارے کی جانب سے ایک اور بڑا مطالبہ کر دیا گیا ہے۔

اے آر وائی نیوز کو ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق آئی ایم ایف نے آئندہ بجٹ میں صوبوں سے مزید 400 ارب روپے آمدن بڑھانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

وفاقی حکومت نے بھی آئی ایم ایف کے مطالبات کے تحت صوبائی حکام سے ٹیکس آمدن، نان ٹیکس آمدن بڑھانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ اس سلسلے میں وفاقی حکومت کی صوبوں سے آئندہ مالی سال 4 سو ارب روپے اضافی آمدن پر مشاورت جاری ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے صوبائی وزرائے خزانہ کے ساتھ ورچوئل میٹنگ کی، جس میں آئی ایم ایف سے صوبائی محاصل بڑھانے پر مشاورت کی گئی۔

مشاورتی اجلاس میں زرعی آمدن پر انکم ٹیکس، پراپرٹی ٹیکس، ایکسائز ڈیوٹی بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا جب کہ آئندہ بجٹ میں صوبوں کیلیے ٹیکس محصولات اور مالیاتی سرپلس کے اہداف پر بھی مشاورت کی گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ امکان ہے کہ صوبے آئندہ مالی سال ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح میں 0.3 فیصد اضافے میں کردار ادا کریں گے اور صوبائی حکومتیں سروسز پر سیلز ٹیکس کے دائرہ کار کو مزید وسیع کریں گی۔

اس مشاورت میں یہ بھی طے پایا کہ صوبائی معیشت کے تمام شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا۔ زرعی آمدن ٹیکس کی نئی شرحیں مالی سال 2026 کی زرعی آمدن پر لاگو ہیں جبکہ اس کے ثمرات مالی سال 2027 میں حاصل ہوں گے۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ آئی ایم ایف نے موجودہ مالی سال میں زرعی آمدن ٹیکس کے حوالے سے کوئی ہدف مقرر نہیں کیا۔ تاہم عالمی مالیاتی ادارے نے صوبوں پر زور دیا ہے کہ وہ سروسز پر جی ایس ٹی کی وصولی بہتر بنانے کے لیے نظام کو موثر بنائیں۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close