ایپسٹین کیس نے نیا رخ اختیار کرلیا، اہم انکشافات سامنے آگئے

جیفری ایپسٹین سے جڑے جنسی استحصال اور انسانی اسمگلنگ کیس میں فرانس کی تحقیقات نے نیا موڑ لے لیا، جہاں مزید 10 نئی متاثرہ خواتین سامنے آگئیں۔

 

پیرس کی پبلک پراسیکیوٹر نے فرانسیسی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ فروری میں متاثرین سے سامنے آنے کی اپیل کے بعد اب تک تقریباً 20 خواتین نے حکام سے رابطہ کیا، جن میں سے 10 ایسی ہیں جو پہلے تفتیش کاروں کے علم میں نہیں تھیں۔

انہوں نے کہا کہ فی الحال ان خواتین کے بیانات ریکارڈ کیے جا رہے ہیں، جبکہ کئی متاثرہ خواتین بیرونِ ملک موجود ہیں، اس لیے تفتیشی حکام ان کی پیرس آمد کے مطابق ملاقاتوں کا انتظام کر رہے ہیں۔

فرانس نے امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جیفری ایپسٹین سے متعلق خفیہ فائلیں منظرِ عام پر آنے کے بعد انسانی اسمگلنگ کی تحقیقات شروع کی تھیں۔

فرانسیسی حکام یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا فرانس میں بھی ایسے جرائم ہوئے یا فرانسیسی افراد نے ایپسٹین کے نیٹ ورک کی معاونت کی۔

پراسیکیوٹر کے مطابق تفتیشی ٹیم نے ایک بار پھر ایپسٹین کے کمپیوٹرز، فون ریکارڈز اور ایڈریس بکس کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے، جبکہ بین الاقوامی تعاون کے لیے بھی مختلف ممالک سے رابطے کیے جا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ جیفری ایپسٹین اگست 2019ء میں امریکی جیل میں اس وقت مردہ پایا گیا تھا جب اس پر کم عمر لڑکیوں کی جنسی اسمگلنگ کے الزامات کے تحت مقدمہ چل رہا تھا۔

اس کیس میں فرانسیسی ماڈل ایجنسی کے سابق سربراہ جیرالڈ میری اور آنجہانی ماڈل ایجنٹ جین لک برونیل کے نام بھی سامنے آئے تھے۔

فرانسیسی حکام نے جین لک برونیل کو 2020ء میں گرفتار کیا تھا، تاہم وہ 2022ء میں جیل میں مردہ پائے گئے تھے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close