امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بدھ کو چین کے صدر شی جن پنگ سے اہم ملاقات کے لیے بیجنگ پہنچ گئے ہیں، یہ تقریباً ایک دہائی بعد کسی امریکی صدر کا دورۂ چین ہے جو ایران جنگ کی وجہ سے مؤخر ہوگیا تھا۔ آخری دفعہ چین کا دورہ کرنے والے امریکی صدر بھی ڈونلڈ ٹرمپ ہی تھے جو 2017 میں پہلی مدتِ صدارت میں چین پہنچے تھے۔
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے اس تین روزہ دورے کو دونوں ملکوں کے تعلقات، عالمی سیاست اور معیشت کے لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جارہا ہے۔
نومبر 2017 میں اپنے پہلے دورۂ چین کے موقع پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی موجودگی میں دونوں ممالک کی کمپنیوں کے درمیان ریکارڈ 253.5 ارب ڈالر مالیت کے 34 سے زائد تجارتی معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط ہوئے تھے۔ تجارتی حجم کے لحاظ سے یہ عالمی تاریخ کے سب سے بڑے تجارتی پیکجوں میں سے ایک تھا۔
بدھ کی شام صدر ٹرمپ دوسرے مرتبہ بیجنگ پہنچے ہیں، جہاں اپنے قیام کے دوران وہ صدر شی جن پنگ سے ’گریٹ ہال آف دی پیپل‘ میں ملاقات کریں گے۔ اس دوران وہ تاریخی مقام ’ٹیمپل آف ہیون‘ کا دورہ بھی کریں گے جب کہ ان کے اعزاز میں خصوصی تقریب کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ کے ہمراہ سیاسی یا سرکاری وفد کے علاوہ معروف کاروباری افراد پر مشتمل تجارتی وفد بھی چین پہنچا ہے، جس میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی موجود ہیں، جن کی سربراہی میں امریکی وفد چینی حکام کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی سے متعلق اہم مذاکرات کرے گا۔
وائٹ ہاؤس نے بھی اپنے اعلان میں بتایا تھا کہ صدر ٹرمپ کے ہمراہ چین جانے والے وفد میں 17 بڑی امریکی کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹیوز شامل ہوں گے۔ یہ وفد مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی کمپنیوں کی نمائندگی کرے گا، جن میں ٹیکنالوجی، مالیات، ہوابازی، توانائی اور ادائیگیوں کے نظام سے وابستہ ادارے شامل ہیں۔
اس دورے میں شامل نمایاں شخصیات میں ایپل کے ٹم کک، ٹیسلا کے ایلون مسک، این ویڈیا کے جینسن ہوانگ، بلیک راک کے لیری فنک، بوئنگ کے کیلی اورٹبرگ اور گولڈمین ساکس کے ڈیوڈ سولومن اور میٹا کی صدر و نائب چیئر ڈینا پاول شامل ہیں۔
توقع کی جا رہی ہے کہ بیجنگ میں ہونے والی ملاقاتوں میں تجارت، مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز، سرمایہ کاری، توانائی، تائیوان اور عالمی سلامتی جیسے اہم معاملات زیر بحث آئیں گے۔ رپورٹس کے مطابق امریکا چین کے تیزی سے بڑھتے ہوئے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے چین کو تخفیفِ اسلحہ کے نئے ممکنہ معاہدوں میں شامل کرنے کی بھی کوشش کرے گا۔
صدر ٹرمپ کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب وہ ایران کے ساتھ جنگ کے باعث داخلی سطح پر عوامی مقبولیت میں کمی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں۔
تجارت
الجزیرہ کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کا بنیادی ایجنڈا تجارت ہے۔ واشنگٹن چاہتا ہے کہ بیجنگ امریکی مصنوعات، بشمول بوئنگ طیارے، گوشت اور سویابین کی خریداری میں اضافہ کرے۔ دوسری جانب چین چاہتا ہے کہ امریکہ جدید ’چپس‘ اور سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی پر عائد پابندیوں میں نرمی لائے۔
صدر ٹرمپ کی آمد سے قبل ان کے اعلیٰ تجارتی مذاکرات کار اسکاٹ بیسنٹ نے جنوبی کوریا کے انچیون ہوائی اڈے پر چینی نائب وزیراعظم ہی لائفینگ کے ساتھ تین گھنٹے طویل ’غیر رسمی‘ مگر اہم ملاقات کی۔ اس ملاقات کا مقصد گزشتہ سال دونوں معیشتوں کے درمیان ہونے والے نازک تجارتی معاہدے کو برقرار رکھنا ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں





