ایران کیساتھ مسلح کشیدگی ختم ؟؟؟ ٹرمپ نےکانگریس کو خط لکھ دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس کے رہنماؤں کو ارسال کیے گئے ایک خط میں کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری مسلح کشیدگی ختم ہو چکی ہے، جس کے بعد 60 دن کے اندر قانون ساز ادارے سے منظوری لینے کی شرط اب لاگو نہیں ہوتی۔

یہ خط یکم مئی کو تحریر کیا گیا، جس میں صدر ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے 28 فروری کو ایران کے خلاف ’’آپریشن ایپک فیوری‘‘ شروع کیا تھا اور اس حوالے سے کانگریس کو آگاہ بھی کیا گیا تھا۔ امریکی قانون War Powers Act of 1973 کے تحت صدر ہنگامی صورتحال میں فوج تعینات کر سکتے ہیں، تاہم 60 دن کے اندر کانگریس سے منظوری حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔

ٹرمپ کے مطابق 7 اپریل 2026 کو دو ہفتوں کی جنگ بندی کا حکم دیا گیا، جس میں بعد ازاں توسیع کی گئی، اور اس کے بعد سے امریکی افواج اور ایران کے درمیان کوئی جھڑپ نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق 28 فروری سے شروع ہونے والی مسلح کشیدگی اب ختم ہو چکی ہے۔

صدر ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ فوجی کارروائی کے لیے کانگریس سے منظوری لینے کا ارادہ نہیں رکھتے، اور ان کے مطابق ماضی میں بھی ایسے معاملات میں یہی طریقہ اپنایا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے War Powers Act کو ’’غیر آئینی‘‘ قرار دیا۔

تاہم ان کے اس مؤقف پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ سینیٹ میں ڈیموکریٹک رہنما چک شومر نے اسے ’’غیر قانونی جنگ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے اثرات سے امریکی عوام متاثر ہو رہے ہیں۔

اسی طرح سینیٹ آرمڈ سروسز کمیٹی کی رکن جینی شاہین نے کہا کہ صدر کا اعلان زمینی حقائق کی مکمل عکاسی نہیں کرتا، کیونکہ خطے میں اب بھی ہزاروں امریکی فوجی خطرے میں ہیں اور کشیدگی بڑھنے کا خدشہ برقرار ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close