اسلام آباد: وزارت ہائوسنگ نے اسلام آباد کے سیکٹر ایف بارہ سے متعلق پالیسی تبدیل کرتے ہوئے لینڈ شیئرنگ فارمولہ اختیار کرنے کا اعلان کردیا ۔ زمین مالکان کو نقد ادائیگی کی بجائے ڈویلپ پلاٹ دیا جائے گا ۔ سیکرٹری ہائوسنگ نے کہا کہ لوگوں کی اپنی زمین سے وابستگی ہوتی ہے ہم ان سے زیادتی نہیں کریں گے ۔سینیٹر ناصر محمود کی زیرصدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہاسنگ اینڈ ورکس کا اجلاس ہوا ۔ اجلاس میں اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز میں تجاوزات، پارلیمانی لاجز ، اسلام آباد ماڈل جیل، شہید ملت سیکرٹریٹ کی لفٹس اور پاک پی ڈبلیو ڈی ملازمین کے مسائل کا جائزہ لیا گیا۔ سیکرٹری ہائوسنگ کیپٹن ریٹائرڈ محمود نے بتایا کہ سیکٹر ایف بارہ سے تجاوزات کا خاتمہ بڑا چیلنج ہے۔ لینڈ شیئرنگ پالیسی کے تحت لوگوں سے شفاف طریقے سے زمین لی جائے گی تاکہ کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہو۔ چار کنال کے بدلے ایک کنال کا ڈویلپ پلاٹ دیا جائے گا۔سیکرٹری ہائوسنگ نے یقین دہانی کرائی کہ قائمہ کمیٹی کی رہنمائی میں کام کیا جائے گا۔ فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہائوسنگ اتھارٹی کے ممبرز چاہتے ہیں کہ پلاٹ بنا کر پیسے لیے جائیں تاہم ان کے پاس الہ دین کا چراغ نہیں کہ بغیر وسائل کے ترقیاتی کام مکمل کر سکیں۔ اس معاملے پر وزیراعظم کو بھی شکایات بھیجی گئی ہیں۔ اس نظام میں اچھے لوگوں کو ہضم کرنے کی گنجائش نہیں ہے ۔ کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ سیکٹر ایف چودہ اور پندرہ میں پچاس غیرقانونی اسٹرکچرز موجود ہیں جن کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے ۔ ابتدائی طور پر چھ غیرقانونی جائیدادوں کے خلاف آپریشن کیا گیا۔پارلیمانی لاجز کے زیرتعمیر بلاک کی تکمیل نہ ہونے پر قائمہ کمیٹی نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔ ارکان نے کہا کہ چودہ سال سے زیرتعمیر عمارت کو دیکھ رہے ہیں۔ سی ڈی اے حکام نے بتایا کہ جولائی دوہزار چھبیس تک لاجز کی تکمیل کی ڈیڈ لائن مقرر ہے جبکہ اسلام آباد ماڈل جیل فیز ون موجودہ مالی سال میں مکمل ہو جائے گا۔ کمیٹی نے شہید ملت سیکریٹریٹ کی تین لفٹوں کی تبدیلی کے لیے چھ ماہ کی مہلت دے دی۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






