ایک فیصد شرح سود بڑھانے سے معیشت پر بھاری اثرات مرتب ہوں گے: گوہر اعجاز

اسلام آباد:  سابق نگران وفاقی وزیر گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ شرح سود بڑھانے کے بھاری معاشی نتائج ہو سکتے ہیں، ایک فیصد شرح سود بڑھانے سے قرضوں پر سود کی ادائیگی 600 ارب روپے بڑھ جاتی ہے ۔گوہراعجاز نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ شرح سود بڑھانے سے رواں سال 8 ٹریلین سود ادائیگیوں میں مزید 600 ارب روپے کا اضافہ ہوگا نتیجتا عوام پر ٹیکسوں کا مزید بوجھ ڈالا جائے گا۔سابق نگرا ن وفاقی وزیر اور چیئرمین ا کنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ ڈاکٹر گوہر اعجاز نے سٹیٹ بینک کی جانب سے ایک فیصد شرح سود بڑھانے پر سوال اٹھا دیئے ہیں، گوہر اعجاز نے سوال کیا ہے کہ کیا شرح سود بڑھانے سے فیول بحران اور تیل کی قیمتوں سے ہونیوالی مہنگائی کو روکا جا سکتا ہے ؟ کیا پالیسی ریٹ میں ایک فیصد اضافے سے سٹیٹ بینک عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ روک سکتا ہے ؟کیا شرح سود میں ایک فیصد اضافے سے ملک میں فیول کی کھپت کم ہوجائے گی ؟ ۔گوہر اعجاز نے کہا کہ معروف ماہر معاشیات جوزف سٹگلیٹز کے مطابق سپلائی سائیڈ مہنگائی شرح سود بڑھانے سے کم نہیں ہو سکتی تاہم شرح سود بڑھانے کے بھاری معاشی نتائج ہو سکتے ہیں ایک فیصد شرح سود بڑھانے سے قرضوں پر سود کی ادائیگی 600 ارب روپے بڑھ جاتی ہے، شرح سود بڑھانے سے رواں سال 8 ٹریلین سود ادائیگیوں میں مزید 600 ارب روپے کا اضافہ ہوگا نتیجتا عوام پر ٹیکسوں کا مزید بوجھ ڈالا جائے گا سود کی ادائیگیوں کے لیے عوام پر بھاری ٹیکس عائد کئے جائیں گے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close