کوٹلی : وزیراعظم آزادحکومت ریاست جموں و کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے دورہ کوٹلی کے دوران تحصیل بار ایسوسی ایشن کھوئی رٹہ کے نومنتخب عہدیداران کی تقریبِ حلف برداری میں شرکت کی اور نو منتخب عہدیداران تحصیل بار ایسوسی ایشن سے حلف بھی لیا۔
وزیراعظم آزاد کشمیر نے حلف برداری کی تقریب سے خطاب بھی کیا ،اس موقع پر صدر پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر چوہدری محمد یاسین، وزرائے حکومت چوہدری رفیق نئیر، چوہدری اخلاق، جاوید اقبال بڈھانوی، صدر تحصیل بارایسوسی ایشن کھوئی رٹہ راجہ محمون خان ، سیکریٹیری جنرل چوہدری نصیر ، نائب صدر راجہ مجیب اکبر سمیت دیگر اہم شخصیات نے بھی تقریب میں شرکت کی۔
اپنے خطاب میں وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ ریاست میں ایک مؤثر اور مستحکم نظام ہی ترقی کی بنیاد بن سکتا ہے، حکومت نے ہمیشہ مثبت رویے اور افہام و تفہیم کے ذریعے مسائل کے حل کو ترجیح دی ہے، گزشتہ پانچ ماہ کے دوران ریاست میں نمایاں بہتری آئی ہے اور آج کے حالات کا موازنہ ماضی سے کیا جا سکتا ہے۔ اگر ماضی کے حالات سے موازنہ کیا جائے تو آج واضح بہتری نظر آئے گی ، ہم آئندہ دنوں میں انٹرپرینیور شپ کانفرنس کروانے جارہے ہیں ، تعلیمی پیکج موجودہ حکومت کا انقلابی اقدام ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک لیڈر قوم کو ویژن دیتا ہے اور حکومت نے روایتی انداز میں نظام کو بحال کرتے ہوئے اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا ہے۔یہی بہتری کی نوید ہے، یہی ویژن ہے، آزادکشمیر قدرتی وسائل سے مالا مال ہے ، ٹورازم اور زراعت کے شعبوں کو فروغ دے کر معیشت کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے، متبادل ذرائع آمدن ڈھونڈنے پر بھی کام جاری ہے۔وکلا معاشرے کی فکری رہنمائی کرتے ہیں، انہیں ہمیشہ معاشرے میں اہم مقام حاصل رہا ہے۔موجودہ حکومت نے نظام کو بحال کیا اور سیاسی عمل کو دوبارہ فعال بنایا ہے۔
حکومت نے تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلنے کی پالیسی اپنائی ہے ، ریاست کے تشخص کو مضبوط کیا ہے۔تحصیل بار کونسل و وکلا ویلفیئر فاؤنڈیشن کے لیے دس لاکھ روپے کی گرانٹ، کرکٹ گراؤنڈ کے لیے پی سی ون اسکیم کا اعلان اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کورٹ کے لیے سٹاف کا اعلان کرتا ہوں ، وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کے حصول تک تحریک آزادی کشمیر کو زندہ رکھا جائے گا دنیا مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی جارحیت کا نوٹس لے ، ہمیں اب مزہمت سے آگے عملی طور پر مقبوضہ کشمیر کی آواز بننا ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے مسائل کے حل کو ترجیح بنایا ہے ہم نے سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے اوورسیز کمیشن قائم کیا ہے تاکہ بیرون ملک مقیم کشمیریوں کے مسائل حل کیے جا سکیں، زراعت کے شعبے کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کا پانچ سالہ مینڈیٹ ہوتا ہے اور ابتدائی چھ ماہ کو ہنی مون پیریڈ کہا جاتا ہے، تاہم اس محدود ملنے والے وقت میں بھی دستیاب وسائل کو بروئے کار لا کر عوامی مسائل کے حل کی بھرپور کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد کو بحال کیا ہے۔وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ ریاست کو خود کفیل بنانے، عوامی محرومیوں کے ازالے اور جدید تقاضوں کے مطابق ترقی کی راہ پر گامزن رکھنے کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






