بجلی 26 پیسے فی یونٹ مہنگی ہونے کاامکان ہے ، جس کا اطلاق کے الیکٹرک سمیت ملک بھر کے تمام صارفین پر پڑے گا۔
تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں بجلی کے صارفین کے لیے مہنگائی کا ایک اور جھٹکا تیار کر لیا گیا ہے، بجلی فراہم کرنے والے ادارے نے قیمتوں میں 26 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی ہے۔
یہ اضافہ مارچ کے مہینے میں بجلی بنانے کے لیے استعمال ہونے والے ایندھن (پٹرول، گیس، کوئلہ وغیرہ) کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی وجہ سے مانگا گیا ہے۔
بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق نیپرا 28 اپریل کو سماعت کرے گی ، اگر یہ اضافہ منظور ہو گیا تو اس کا اثر کراچی (کے الیکٹرک) سمیت ملک بھر کے تمام صارفین پر پڑے گا۔
سی پی پی اے کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق مارچ کے مہینے میں مجموعی طور پر 8 ارب 93 کروڑ 90 لاکھ یونٹس بجلی پیدا کی گئی جبکہ تقسیم کار کمپنیوں کو 8 ارب 64 کروڑ 40 لاکھ یونٹس بجلی فراہم کی گئی۔
مارچ کے لیے بجلی کی ریفرنس لاگت 7.99 روپے فی یونٹ مقرر تھی، تاہم ایندھن کی قیمتوں میں فرق کی وجہ سے اضافے کی درخواست کی گئی ہے۔
درخواست میں کہا گیا کہ مارچ میں سب سے زیادہ 23 فیصد بجلی پانی سے اور 22 فیصد ایٹمی توانائی سے پیدا کی گئی، جبکہ باقی بجلی کوئلے، گیس اور دیگر ذرائع سے بنائی گئی۔
حکومت نے مارچ کے لیے بجلی کی قیمت تقریباً 8 روپے فی یونٹ رکھی تھی، لیکن اب ایندھن مہنگا ہونے کا عذر پیش کر کے اسے مزید بڑھانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
اگر نیپرا نے اجازت دے دی تو اگلے مہینے کے بلوں میں یہ اضافہ شامل کر دیا جائے گا
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






