بجلی لوڈشیڈنگ کے بعد پاکستانیوں کیلئے ایک اور بری خبر

ملک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے باعث موبائل نیٹ ورک اور انٹرنیٹ سروسزبری طرح متاثر ہے کیونکہ زیادہ تر ٹیلی کام ٹاورز بیک اپ بیٹری سسٹمز پر چلتے ہیں۔

 

تفصیلات کے مطابق پاکستان میں بجلی کی طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے جہاں زندگی کے تمام شعبوں کو مفلوج کر دیا ہے، وہیں اب موبائل نیٹ ورک اور انٹرنیٹ سروسز بھی شدید بحران کا شکار ہو گئی ہیں۔

ٹیلی کام کمپنی کے ترجمان نے صارفین کو سروسز میں ممکنہ تعطل کے حوالے سے باقاعدہ آگاہ کر دیا ہے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ بجلی کی بار بار بندش اور طویل لوڈشیڈنگ ٹیلی کام انفراسٹرکچر کے لیے بڑا چیلنج بن چکی ہے، شہروں میں زیادہ تر ٹیلی کام ٹاورز بیک اپ بیٹری سسٹمز پر چلتے ہیں، ان بیٹریوں کو مکمل چارج کرنے کے لیے کم از کم 3 گھنٹے کی مسلسل بجلی درکار ہوتی ہے، لیکن بار بار کی لوڈشیڈنگ سے چارجنگ کا عمل مکمل نہیں ہو پاتا۔

ترجمان نے مزید کہا کہ بیٹریاں چارج نہ ہونے کی وجہ سے بیک اپ کی صلاحیت ختم ہو رہی ہے، جس سے سروسز متاثر ہو رہی ہیں، بجلی کی فراہمی مستحکم ہوتے ہی سروسز معمول پر آ جائیں گی۔

موبائل ٹاورز پر لگی بیٹریوں کا بیک اپ صرف 2 سے 6 گھنٹے تک ہوتا ہے، طویل لوڈشیڈنگ کی وجہ سے سسٹم “بیٹھ” جاتا ہے۔

بجلی نہ ہونے پر جنریٹر چلانا واحد حل ہے، لیکن پیٹرول اور ڈیزیل کی قیمتوں میں اضافے نے آپریشنل اخراجات اتنے بڑھا دیے ہیں کہ ہر ٹاور پر جنریٹر چلانا اب ممکن نہیں رہا۔

ملک بھر کے شہری اور دیہی علاقوں میں صارفین کو بھی مسائل کا سامنا ہے ، دورانِ گفتگو کالز کا اچانک کٹ جانا معمول بن گیا ہے جبکہ انٹرنیٹ کی رفتار انتہائی کم ہو گئی ہے اور کئی علاقوں میں گھنٹوں تک سروس معطل رہتی ہے۔

اس کے علاوہ دور دراز علاقوں میں بیک اپ سسٹم یا تو بہت کمزور ہے یا سرے سے موجود ہی نہیں، جس کی وجہ سے وہاں رابطے مکمل منقطع ہو جاتے ہیں۔

ٹیلی کام ذرائع کا کہنا ہے کہ بجلی کی مسلسل “آنکھ مچھولی” اور بڑھتے ہوئے اخراجات کی وجہ سے سروس کوالٹی کے عالمی معیارات کو پورا کرنا اب کمپنیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close